خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 193

خطبات مسرور جلد 14 193 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 اپریل 2016 آنا۔میں انہی سے خوش ہو سکتی ہوں۔اس نے اس کو بہت معمولی سی بات سمجھ کر کہا کچھ اور بتائیں۔لیکن ماں نے کہا بس یہی چیز مجھے سب سے زیادہ خوش کر سکتی ہے۔خیر وہ چلا گیا۔جہاں بھی تھا جب روٹی پکا تا تو جان بوجھ کے اسے جلاتا تھا تا کہ جلے ہوئے ٹکڑے زیادہ سے زیادہ جمع ہوں۔روٹی کا کچھ حصہ تو خود کھالیتا اور جلا ہوا حصہ ایک تھیلے میں ڈالتا جاتا۔کچھ مدت کے بعد جب گھر آیا تو اس نے جلے ہوئے ٹکڑوں کے بہت سے تھیلے اپنی ماں کے آگے رکھ دیئے۔وہ یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔اس نے کہاں اماں! میں نے آپ کے کہنے پر عمل تو کیا تھا مگر مجھے ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ یہ بات کیا تھی۔ماں نے کہا کہ اس وقت جبکہ تم گئے تھے اس کا بتانا مناسب نہ تھا۔اب میں بتاتی ہوں اور وہ یہ کہ بہت سی بیماریاں انسان کو نیم پختہ کھانا کھانے کی وجہ سے لاحق ہو جاتی ہیں۔میں نے جلے ہوئے ٹکڑے لانے کے لئے تمہیں اس لئے کہا تھا کہ تم ان ٹکڑوں کے لئے ایسی روٹی پکاؤ گے کہ وہ کسی قدر جل بھی جائے اور جلی ہوئی روٹی کو رکھ دو گے اور باقی کھالو گے اس سے تمہاری صحت اچھی رہے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہو ا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 5 صفحہ 188-189) بظاہر تو یہ چھوٹی سی بات ہے اور اگر ماں بچے کو براہ راست کہتی کہ روٹی اچھی طرح پکا کر کھانا تو بچہ کہہ سکتا تھا کہ میں جو ان آدمی ہوں بیوقوف نہیں ہوں کہ کچی روٹی کھاؤں گا۔حالانکہ میں نے اب بھی دیکھا ہے، اس زمانے میں بھی اکثر لوگ جو ہیں یہ بیوقوفی کر رہے ہوتے ہیں اور کچی روٹی کو بڑے شوق سے کھا رہے ہوتے ہیں۔بہر حال ماں کی یہ بات اس بچے کو صحت مند رکھنے کا موجب بنی۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہ تمہید میں نے اس لئے بیان کی ہے اپنے ایک خطبہ میں مسئلہ بیان کر رہے تھے کہ دعا کی قبولیت کے سلسلہ میں بھی بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو بیان کی جارہی ہیں اور ہمیں پہلے سے یہ باتیں پتا ہیں لیکن پتا ہونے کے باوجود عمل نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دعا کی قبولیت کے لئے دو بنیادی شرطیں ہیں۔ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ فَلْيَسْتَجِيبُوا لی اور وَلْيُؤْمِنُوا لی۔کہ میری بات مانو اور مجھے پر ایمان لاؤ۔اس کے علاوہ بھی بہت ساری باتیں ہیں۔درود بھیجو، صدقہ دو۔لیکن بہر حال قرآن شریف میں ان چیزوں کا، دو باتوں کا ذکر آیا ہے۔لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں پتا ہے۔پتا تو ہے لیکن عمل نہیں کرتے۔بہت سارے لوگ مجھے لکھ بھی دیتے ہیں کہ ہم نے بہت دعائیں کیں، اللہ تعالیٰ نے ہماری دعائیں قبول نہیں کیں۔یہ اللہ تعالیٰ پر الزام ہے۔اصل میں یہ ایمان کی کمزوری بھی ہے۔کچھ عرصہ ہوا ہے ایک شخص میرے پاس آیا کہ میں نے بہت دعائیں کی ہیں، میری قبول نہیں ہوئیں۔کیا وجہ ہے؟ میں نے اسے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ فَلْيَسْتَجِيبُوالی کہ میرے حکموں پر چلو۔تو کیا تم اللہ تعالیٰ کے جو تمام حکم ہیں ان پر چلتے ہو ؟ وہ کہنے لگا نہیں۔تو