خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 192

خطبات مسرور جلد 14 192 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 اپریل 2016 اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ دنیا میں کوئی چیز اپنی ذات میں نقصان دہ نہیں ہے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ " کچلہ ہے۔یہ بھی ایک زہر ہے۔اس کے کھانے سے کئی لوگ مر جاتے ہیں۔لیکن لاکھوں لاکھ انسان اس سے بچتے بھی ہیں " یعنی کہ علاج کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔" اسی طرح بہت بڑی تباہی والی چیز افیون ہے لیکن اس کی تباہی کے مقابلے میں اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اطباء کا قول ہے کہ طب کی آدھی دوائیں ایسی ہیں جن میں افیون استعمال ہوتی ہے اور اس کا اتنا فائدہ ہے کہ اندازہ لگانا مشکل ہے۔جب انسان کو بے چینی اور بے کلی ہوتی ہے، جب انسان کی نیند اڑ جاتی ہے ، جب انسان درد سے نڈھال ہو کر خود کشی کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو اس کو مارفیا کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے جس سے اس کو فوراً آرام ہو جاتا ہے۔پس دنیا میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اپنی ذات میں نقصان دینے والی ہو۔نقصان دینے والی چیز صرف غلط استعمال ہے جو انسان کی اپنی کو تاہیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔اسی لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مرض کو اپنی طرف اور شفاء کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے۔مگر ہمارے ملک میں ایک مسلمان خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے جب کسی کام میں ناکام ہو تا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں نے تو پورا زور لگا دیا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے ناکام کر دیا گویا وہ خوبی کو اپنی طرف اور برائی کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔" (تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 169-170) پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ سچے مومن کا کام ہے کہ جب کسی کام کا اچھا نتیجہ نکلے تو یہ کہے کہ الحمد للہ خد اتعالیٰ نے مجھے کامیاب کر دیا اور جب خراب نتیجہ نکلے تو وہ إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھے اور کہے کہ میں اپنی کو تاہیوں کی وجہ سے ناکام ہوا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے برکت اسے ملتی ہے۔جو کو تاہیوں کو اپنی طرف منسوب کرے اور کامیابی پر الحمد للہ کہے، ایسا کہنے والوں پر اللہ تعالیٰ پھر رحم فرماتا ہے اور پھر رحم فرماتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ میرابندہ کامیابیوں کو میری طرف منسوب کرتا ہے تو میں اسے مزید کامیابیوں سے نوازوں گا۔بعض معمولی سی باتیں بڑے نتائج پیدا کرتی ہیں۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میں نے سنا ہے۔آپ کسی عورت کا قصہ بیان فرماتے کہ اس کا ایک ہی لڑکا تھا۔وہ لڑائی پر جانے لگا تو اس نے اپنی ماں کو کہا کہ آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جو میں اگر واپس آؤں تو تحفے کے طور پر آپ کے لئے لیتا آؤں اور آپ اسے دیکھ کر خوش ہو جائیں۔ماں نے کہا کہ اگر تو سلامت آجائے تو یہی بات میرے لئے خوشی کا موجب ہو سکتی ہے۔لڑکے نے اصرار کیا اور کہا آپ ضرور کوئی چیز بتائیں۔ماں نے کہا اچھا اگر تو میرے لئے کچھ لانا ہی چاہتے ہو تو روٹی کے جلے ہوئے ٹکڑے جس قدر زیادہ لا سکولے