خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 191 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 191

خطبات مسرور جلد 14 191 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 اپریل 2016 حضرت مصلح موعودؓ اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا آخری سال تھا یا آپ کے بعد خلافت اولی کا کوئی رمضان تھا۔بہر حال موسم کی گرمی کے سبب یا اس لئے کہ میں سحری کے وقت پانی نہ پی سکا تھا، مجھے ایک روزے میں شدید پیاس محسوس ہوئی تھی کہ مجھے خوف ہوا کہ میں بیہوش ہو جاؤں گا اور دن غروب ہونے میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا۔میں نڈھال ہو کر ایک چارپائی پر گر پڑا اور میں نے کشف میں دیکھا کہ کسی نے میرے منہ میں پان ڈالا ہے۔میں نے اسے چو ساتو سب پیاس جاتی رہی۔چنانچہ جب وہ حالت جاتی رہی تو میں نے دیکھا کہ پیاس کا نام و نشان بھی نہ باقی رہا تھا۔تو اللہ تعالیٰ نے اس طریق سے میری پیاس بجھا دی اور جب پیاس بجھ جائے تو پانی پینے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ضرورت تو اسی وقت تھی ناں جب پیاس لگ رہی تھی۔غرض تو یہ ہوتی ہے کہ ضرورت پوری کر دی جائے خواہ مناسب سامان مہیا کر کے ہو ، خواہ اس سے استغناء پیدا کر کے۔یعنی اس کی خواہش ہی نہ رہے۔یا تو چیز مہیا کر دی جائے یا اس چیز کی خواہش نہ رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک شخص نے لکھا کہ دعا کریں کہ فلاں عورت کے ساتھ میرا نکاح ہو جائے۔آپ نے فرمایا کہ ہم دعا کریں گے مگر نکاح کی کوئی شرط نہیں ہے۔خواہ نکاح ہو جائے خواہ اس سے نفرت پیدا ہو جائے۔تو آپ نے دعا فرمائی اور چند روز بعد اس نے لکھا کہ میرے دل میں اس سے نفرت پیدا ہو گئی ہے۔اسی طرح مجھے بھی ایک شخص نے حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایسا لکھا تھا اور میں نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سنت میں اسے یہی جواب دیا تھا اور اس نے بعد میں مجھے اطلاع دی کہ اس کے دل سے اس کا خیال جاتا رہا۔پس اللہ تعالیٰ دونوں صورتوں میں مدد کرتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 20 صفحہ 192) یعنی اصل چیز یہ ہے کہ یا جس کی خواہش کی جارہی ہے وہ خواہش پوری ہو جائے یا پھر وہ خواہش ہی دل سے مٹ جائے۔تو اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے اور اسی طرح اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے۔پس اصل چیز یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے فیصلہ کو اہمیت دیتے ہوئے دعا کی جائے۔اب بھی بعض لوگ خط لکھتے ہیں۔مجھے بھی خط آتے ہیں کہ فلاں جگہ رشتہ کرنا ہے۔دعا کریں اس سے ہو جائے اور ساتھ کوشش بھی کریں اور اس کے والدین کو بھی کہیں اور اس نظام کو بھی کہیں ورنہ ختم ہو جاؤں گا۔میں بھی مر جاؤں گا اور دوسرا فریق بھی مر جائے گا۔تو یہ فضول اور لغو باتیں ہیں۔شادی کا اصل مقصد تو دل کا سکون اور بقائے نسل ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگنا چاہئے اور اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہتر ہے تو ہو ورنہ دل سے اتر جائے اور ختم ہو جائے۔یہ محبتیں جو دنیاوی ہیں یہ عارضی محبتیں ہوتی ہیں۔دنیا کی محبت بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کے لئے مانگنی چاہئے۔اور اگر یہ ہو گا تو پھر دنیاوی محبت بھی نیکی بن جائے گی اور پھر ہمیشہ دل کا سکون اور اطمینان کا باعث رہے گی۔