خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 190
خطبات مسرور جلد 14 190 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 اپریل 2016 حرف گیری کا موقع ملتا ہے اور وہ کہتا ہے خبر نہیں یہ کیا چیز بنارہے ہیں۔کرنے والا کوئی ہو تا ہے اور بد نام سلسلہ ہو تا ہے۔لوکل کمیٹی والوں کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے پھر آپ مثال دیتے ہیں کہ گورداسپور میں ایک بڑھا شخص رہا کر تا تھا۔لمباسا قد تھا۔بڑی سی داڑھی تھی۔عرائض نویس یا نقل نویں تھے۔ان کا طریق تھا کہ جب کسی دوست کو دور سے دیکھتے تو بجائے السلام علیکم کہنے کے اللہ اکبر، اللہ اکبر کہنا شروع کر دیتے اور جب پاس پہنچتے تو اس کے انگوٹھے پکڑ کر اللہ اکبر کہنے لگ جاتے اور ساتھ ساتھ اچھلتے بھی جاتے تھے۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس اکثر ملنے کے لئے آجاتے تھے۔انہیں بھی ہمارے لوکل کمیٹی کے پریذیڈنٹ کی طرح نقل کا شوق تھا۔نقل کی مثال دے رہے ہیں کہ لوگوں کی نقل کر کے بعض لوگ غلط کام کرتے ہیں۔نقل کا شوق تھا وہ غریب چونکہ روز مسلوں کا کام سنا کرتے تھے کورٹ میں عرضی نویس تھے اس لئے ان کا بھی دل چاہتا تھا کہ میں مجسٹریٹ بنوں اور مسلیں لانے کا آرڈر دیا کروں۔مگر چونکہ یہ ہوس پوری نہ ہو سکتی تھی۔اس لئے انہوں نے گھر میں ایک طریقہ ایجاد کیا کہ ایک نمک کی مسل بنالی۔ایک گھی کی مسل بنائی۔ایک مرچوں کی مسل بنائی۔ایک ایندھن کی مسل بنار کھی تھی۔جب وہ دفتر سے فارغ ہو کر گھر آتے تو ایک گھڑا الٹا کر اس پر بیٹھ جاتے اور بیوی کہتی کہ نمک چاہئے۔وہ بیوی کو مخاطب کر کے کہتے کہ ریڈر ! فلاں مسل لاؤ۔بیوی مسل لے آتی اور وہ اسے پڑھنے کے بعد تھوڑی دیر غور کرتے اور پھر کہتے اچھا اس میں درج کیا جائے کہ ہمارے حکم سے اتنا نمک دیا جاتا ہے۔ایک دن اس بیچارے کی بد قسمتی سے کچہری میں سے کچھ مسلیں چرائی گئیں۔تحقیق شروع ہوئی تو اس کا ایک ہمسایہ کہنے لگا کہ سر کار مجھے انعام دیں تو میں مسلوں کا پتہ بتا سکتا ہوں۔اسے کہا گیا اچھا بتاؤ۔اسے چونکہ روز ہمسائے کے گھر سے مسلوں کا ذکر سنائی دیتا تھا۔اس نے جھٹ اس بوڑھے کا نام لے دیا۔اب پولیس اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ اس کے گھر کے گرد جمع ہو گئی اور تلاشی شروع ہوئی۔مگر جب مسلوں کی برآمد ہوئی تو کوئی نمک کی مسل نکلی۔کوئی گھی کی مسل اور کوئی مرچوں کی مسل۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ یہی نظارہ میں آجکل یہاں دیکھتا ہوں کہ ہمارے دوست یہ سمجھ کر کہ مغربی چیزیں بڑی اچھی ہوتی ہیں ان کی نقل کرنی شروع کر دیتے ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 16 صفحہ 229-230) یہ نہیں دیکھتے کہ اس کی ضرورت کیا ہے۔پس یہاں کسی فارم یا اس کی قیمت کا سوال نہیں ہے۔ایک اصولی بات ہے۔جو ہماری تعلیم اور روایات کے خلاف چیز ہو اس سے ہمیں بیچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور دنیا داری میں اگر ہم نے نقل کرنی ہے تو اول تو یہ دنیاداری کی نقل ہے ہی نہیں اور اگر کسی بھی معاملے میں نقل کرنی ہے تو اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہیں آپ کی نقل کرنی چاہئے یا پھر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو نمونہ بنایا آپ نے جو اپنے آقا سے سیکھا، ہمیں بتایا اس کے مطابق ہمیں چلنا چاہئے۔