خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 189

خطبات مسرور جلد 14 189 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 اپریل 2016 ہے۔انہوں نے کہاہاں۔تمہارے پاس چالیس روپے ہوں تو ان میں سے ایک روپیہ زکوۃ دینا تمہارے لئے ضروری ہے۔لیکن اگر میرے پاس چالیس روپے ہوں تو مجھ پر اکتالیس روپے دینا لازمی ہیں۔کیونکہ تمہارا مقام ایسا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم کماؤ اور کھاؤ لیکن مجھے وہ مقام دیا ہے کہ میرے اخراجات کا وہ آپ کفیل ہے۔اگر بیوقوفی سے میں چالیس روپے جمع کرلوں تو میں وہ چالیس روپے بھی دوں گا اور ایک روپیہ جرمانہ بھی دوں گا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 546) تو یہ بزرگوں کا حال ہے۔پس بعض لوگوں کا فرض ہے کہ وہ صرف دین کی طرف توجہ رکھیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی کام کے لئے پیدا کیا ہے۔لیکن باقی جو لوگ ہیں جو صرف دنیا کے رہنے والے ہیں وہ بیشک اب دنیا کمائیں اور پھر اپنے مال اور وقت کا کچھ حصہ خرچ کریں۔عبادت اور دین کے کاموں میں بھی اپنے وقت کو لگائیں۔استغفار بھی کریں۔دعائیں بھی کریں۔اللہ تعالیٰ نے جو انہیں عزت اور دولت اور شہرت دی ہے تو یہ بطور احسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔پس اس احسان کا شکرانہ یہ ہے کہ اس میں سے دوسروں کا بھی ساتھ ساتھ خیال رکھیں۔بعض لوگوں کے ذہن زیادہ کاروباری ہوتے ہیں یا نقل میں ہی ایسی حرکتیں کر جاتے ہیں جو جماعتی روایات کے خلاف ہوتی ہیں یا اسلامی تعلیم سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ایسے لوگ عہدیداروں میں بھی پائے جاتے ہیں۔بعض دفعہ مقامی انجمنیں بھی ایسے فیصلے کر لیتی ہیں۔قادیان میں ایک دفعہ مقامی انجمن نے ایک فارم شائع کیا اور دوسرے افراد کو ایک آنے کا فروخت کرناشروع کر دیا۔چار پیسے کا آنہ ہو تا تھا۔غالبا کوئی رپورٹ فارم قسم کی چیز تھی۔آج بھی بعض لوگ یہ جدتیں پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اپنی روایات بھول جاتے ہیں۔بہر حال اس وقت جس رنگ میں حضرت مصلح موعود نے ان کو سمجھا یا وہ میں پیش کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ میں جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتاہوں کہ وہ اپنے تمام کاموں میں شریعت کی پیروی کیا کریں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کیا کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیروی کیا کریں۔ابھی تھوڑے دن ہوئے مجھے ایک کاغذ دکھایا گیا تھا میں نے تو اتنا ہی دیکھا کہ اس کاغذ پر اس قسم کا نقشہ تھا جیسے فارموں وغیرہ پر ہوتا ہے مگر بتانے والے نے بتایا کہ یہ ایک آنے پر بکتا ہے اور معلوم ہوا کہ ہماری لوکل انجمن نے اس کو ایجاد کیا ہے۔انہوں نے سرکاری اسٹامپ دیکھے تو خیال آیا کہ ہم بھی ایک کاغذ بنا کر اس کی کچھ قیمت مقرر کر دیں۔کہتے ہیں کہ کو اہنس کی چال چلا اور وہ اپنی چال بھی بھول گیا۔میں یہ تو نہیں کہہ سکتا مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ ہنس کوے کی چال چلا اور اپنی چال بھول گیا۔ہمیں دنیاوی گور نمنٹوں سے بھلا واسطہ ہی کیا ہے کہ ہم ان کی نقل کریں۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس قسم کی فار میں کبھی نہیں بنائیں۔پھر دشمن کو اعتراض کا خوامخواہ موقع دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔اسی قسم کی باتوں کے نتیجہ میں دشمن کو