خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 188 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 188

خطبات مسرور جلد 14 188 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 اپریل 2016 بھی ادنی درجہ ہے۔اصل بات یہی ہے کہ مال عورت کے پاس کم از کم ایک سال رہنا چاہئے اور پھر اس عرصے کے بعد اگر وہ معاف کرے تو پھر درست ہے۔ان کی بیویاں دو تھیں اور مہر پانچ پانچ سو روپیہ تھا۔حکیم صاحب نے کہیں سے قرض لے کر پانچ پانچ سو روپیہ ان کو دے دیا اور کہنے لگے تمہیں یاد ہے کہ تم نے اپنامہر مجھے معاف کیا ہوا ہے۔سو اب مجھے یہ واپس دے دو۔اس پر انہوں نے کہا کہ اُس وقت ہمیں کیا معلوم تھا کہ آپ نے دے دینا ہے۔اس وجہ سے کہہ دیا تھا کہ معاف کیا۔اب ہم نہیں دیں گی۔اب تو ہمارے پاس آگیا۔حکیم صاحب نے آکر یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنایا کہ میں نے اس خیال سے کہ روپیہ مجھے واپس مل جائے گا ایک ہزار روپیہ قرض لے کر دونوں بیویوں کو مہر دیا تھا مگر روپیہ لے کر انہوں نے معاف کرنے سے انکار کر دیا۔حضرت صاحب یہ سن کر بہت ہنسے اور فرمانے لگے۔درست بات یہی ہے کہ پہلے عورت کو مہر ادا کیا جائے اور کچھ عرصے کے بعد اگر وہ معاف کرنا چاہے تو کر دے۔ورنہ دیئے بغیر معاف کرانے کی صورت میں تو مفت کرم داشتن والی بات ہوتی ہے۔کہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی۔اب کسی تکلیف کے بغیر ہی اپنا احسان جتالیا۔عورت مجھتی ہے نہ انہوں نے مہر دیا اور نہ دیں گے۔چلو یہ کہتے جو ہیں تو معاف ہی کر دو۔مفت کا احسان ہی ہو تا ہے۔تو جب عورت کو مہر مل جائے پھر اگر وہ خوشی سے دے تو درست ہے ورنہ دس لاکھ روپیہ بھی اگر اس کا مہر ہو مگر اس کو ملا نہیں تو وہ دے دے گی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ میں نے جیب سے نکال کے تو کچھ دینا نہیں صرف زبانی جمع خرچ ہے۔اس میں کیا حرج ہے۔پس عورتوں سے معاف کرانے سے پہلے ان کو مہر دیا جانا ضروری ہے اور اگر یہ مہر ایسے وقت میں دیا جاتا ہے جب ان کو اپنی ضروریات کی خبر نہیں بعض دفعہ عورت کو ضروریات کا پتا ہی نہیں ہو تا یا جبکہ والدین ان سے لینا چاہتے ہیں تو یہ ناجائز ہے یعنی جیسی میں نے مثال دی کہ بعض لوگ اپنی بیٹیوں کے مہر خود لے لیتے ہیں یہ ناجائز چیز ہے اور یہ بردہ فروشی ہے جو کسی طرح درست نہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 9 صفحہ 217) پھر زکوۃ ہے۔زکوۃ بھی فرائض میں داخل ہے۔ہر اس شخص کے لئے زکوۃ ہے جو اس کی شرائط پوری کرتا ہو لیکن ایسے بزرگ بھی ہیں جو جتنی دولت ہو ، جو آمد ہو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں۔ایسے ہی ایک بزرگ کا قصّہ حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں خدا تعالیٰ نے لوگوں کے لئے نمونے کے طور پر پیدا کیا ہوتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا ہے کہ کسی نے ایک بزرگ سے سوال کیا کہ کتنے روپوں پر زکوۃ فرض ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے لئے مسئلہ یہ ہے کہ چالیس روپے میں سے ایک روپیہ زکوۃ دو۔اس نے کہا کہ آپ نے جو فقرہ بولا ہے کہ تمہارے لئے ، اس کا کیا مطلب ہے۔کیا ز کوۃ کا مسئلہ ہر ایک کے لئے بدلتا رہتا