خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 187 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 187

خطبات مسرور جلد 14 187 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 اپریل 2016 شادی ہو تو اس کے لئے حق مہر رکھا گیا ہے۔اس لئے اس کی ادائیگی ہونی چاہئے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف طلاق یا علیحدگی کی صورت میں ہی حق مہر ادا کرنا ہے حالانکہ حق مہر کا مقصد کیا ہے ؟ مقصد یہ ہے کہ یہ وہ رقم ہے جو عورت کے پاس ہونی چاہئے تا کہ بعض دفعہ اس کو کوئی ضرورت ہو جائے، کوئی خاص خرچ اس کے اوپر آپڑے جس کا وہ خاوند سے مطالبہ کرتے ہوئے بھی ہچکچائے، شرم محسوس کرے تو اس میں سے وہ خرچ کر سکے۔یا بعض وقت ایسی ضرورت پیش آسکتی ہے جو موقع پر خاوند بھی پوری نہیں کر سکتے تو عورت کے پاس کچھ ہو تو سبھی وہ اپنی ضرورت پوری کر سکتی ہے۔اور اگر حق مہر دینا ہی نہیں تو یہ دونوں صورتیں یا اور بھی بہت ساری صورتیں ہیں وہ پوری نہیں ہو سکتیں۔مثلاً عورت کی ضرورت ہے کسی کی مدد کرنا، کسی رشتہ دار کی مدد کرنا اور خاوند کو بتانا نہیں چاہتی تو اس کے پاس یہ رقم ہونی چاہئے۔تو ایسی ہی کوئی نہ کوئی رقم ہو جو اس کی اپنی ہنگامی ضروریات اور اپنی مرضی کے خرچ کے لئے پوری آسکے۔بعض خاوند حق مہر کی ادائیگی تو علیحدہ رہی عورت جو اپنی کمائی کر رہی ہوتی ہے اس پر بھی پابندی لگا دیتے ہیں کہ تم نے ہمارے پوچھے بغیر خرچ نہیں کرنا۔یا ہمیں دو۔یہ ساری آمد جو ہے اس میں سے اتنا حصہ ہمارے پاس آنا چاہئے، ہمارے بنک اکاؤنٹ میں جانا چاہئے ، جو سراسر ناجائز چیز ہے۔اسی طرح بعض غریب خاندانوں میں اور غریب ملکوں میں بعض جگہوں پر یہ بھی رواج ہے کہ والدین شادی کے وقت حق مہر لڑکی کے خاوند یا سسرال سے خود وصول کر لیتے ہیں اور لڑکی کو کچھ بھی نہیں ملتا۔وہ بیاہ کے خالی ہاتھ رہتی ہے۔یہ بھی غلط چیز ہے۔یہ تو لڑکیوں کو بیچنے والی بات ہے جس کی اسلام سخت ممانعت کرتا ہے۔اسی طرح بعض دفعہ عور تیں اپنے خاوندوں کو حق مہر معاف بھی کر دیتی ہیں لیکن اس کے لئے بھی بعض شرائط ہیں کہ ان کے ہاتھ میں رکھ کر پھر پوچھو بلکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض ائمہ کا اور بزرگوں کا تو یہ فیصلہ ہے کہ عورت کو حق مہر دو پھر وہ ایک سال اس کو اپنے پاس رکھے اور پھر اگر چاہے تو خاوند کو واپس کر دے۔تصرف میں لائے اور پھر وہ معاف کرنا چاہے یا دینا چاہے تو دے دے۔حضرت مصلح موعود ایسے ہی حق مہر کی معافی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی کا ہے کہ حضرت حکیم فضل دین صاحب ہمارے سلسلہ میں سابقون الاولون میں سے ہوئے۔ان کی دو بیویاں تھیں۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مہر شرعی حکم ہے اور ضرور عورتوں کو دینا چاہئے۔اس پر حکیم صاحب نے کہا کہ میری بیویوں نے مجھے معاف کر دیا ہوا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کیا آپ نے ان کے ہاتھ میں رکھ کر معاف کرایا تھا؟ کہنے لگے نہیں حضور۔یونہی کہا تھا اور انہوں نے معاف کر دیا۔حضرت صاحب نے فرمایا۔پہلے آپ ان کی جھولی میں ڈالیں پھر اس کو معاف کروائیں۔یہ