خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 186 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 186

خطبات مسرور جلد 14 186 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 اپریل 2016 اس کے کہ آپ بھی اسی علاقے میں رہتے تھے جہاں ملیریا ہے۔اب ایشیا کے لوگ، افریقہ کے لوگ بعض عذر پیش کرتے ہیں کہ ہماری ستیوں کی یہ وجہ ہو گئی، کام نہ کرنے کی یہ وجہ ہو گئی تو یہ وجوہات تو وہاں بھی موجود تھیں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رہتے تھے۔پھر حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہم نے دیکھا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل تھے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کام کی یہ حالت ہوتی تھی کہ ہم جب سوتے تو آپ کو کام کرتے دیکھتے اور جب آنکھ کھلتی تب بھی آپ کو کام کرتے دیکھتے اور باوجود اتنی محنت اور مشقت برداشت کرنے کے جو دوست آپ کی کتابوں کے پروف پڑھنے میں شامل ہوتے آپ ان کے کام کی اس قدر قدر فرماتے کہ اگر عشاء کے وقت بھی کوئی آواز دیتا کہ حضور میں پروف لے آیا ہوں تو آپ چار پائی سے اٹھ کر دروازے تک جاتے ہوئے راستے میں کئی دفعہ فرماتے: جَزَاكَ اللہ آپ کو بڑی تکلیف ہوئی۔جَزَاكَ الله آپ کو بڑی تکلیف ہوئی۔حالانکہ وہ کام جو پروف ریڈنگ کرنے والے کرتے تھے اس کام کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہو تا تھا جو آپ خود کیا کرتے تھے۔غرض ہم نے اس قدر کام کرنے کی عادت حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں دیکھی ہے کہ اس کی وجہ سے ہمیں حیرت آتی تھی۔بیماری کی وجہ سے بعض دفعہ آپ کو ٹہلنا پڑتا تھا مگر اس حالت میں بھی آپ کام کرتے جاتے تھے۔سیر کے لئے تشریف لے جاتے تو راستے میں بھی مسائل کا ذکر کرتے اور سوالات کے جوابات دیتے حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسی ملیر یاز دہ علاقے میں رہنے والے تھے۔(ماخوذ از خطبات محمود۔جلد 17 صفحہ 249) پس حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ہم اپنی سستی کو جو ہم کرتے ہیں اپنی بیماریوں کی طرف منسوب نہ کریں۔اس لئے جو ست رہنے والے لوگ ہیں اور اس وجہ سے اپنے فرائض میں کو تاہی برتے ہیں ان کو جسم کا ملیریا نہیں ہے بلکہ ان کو دل کا ملیریا ہے۔اگر یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم نے محنت کرنی ہے تو یہ سب ستیاں دور ہو سکتی ہیں۔اب ملیر یا والے علاقے تو ایک طرف رہے یہاں یورپ میں جو لوگ ان علاقوں سے آکر آباد ہوئے ان میں بھی بہت سے ایسے ہیں جو گھروں میں پڑے اینٹھتے رہتے ہیں۔سارا دن گھر میں بیٹھے رہے یاٹی وی دیکھتے رہے یا بیویوں سے لڑتے جھگڑتے رہے یا بچوں سے ایسا سلوک کیا کہ بچے بھی تنگ آجاتے ہیں۔یہ بیماری نہیں ہوتی۔بہانہ یہ ہوتا ہے کہ بیمار ہیں۔یہ بیماری نہیں بلکہ سستی ہے کاہلی ہے کیونکہ یہاں یہ فکر نہیں کہ کوئی معاش کی فکر ہو۔کیونکہ گزارہ الاؤنس تو مل ہی جاتا ہے اس لئے بہانہ کر کے کام نہیں کرتے۔پس اس کا ہلی اور سستی کو یہاں رہنے والوں کو بھی دور کرنا چاہئے۔پھر اسلام میں عورت کا مستقبل محفوظ کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ایک یہ بھی ہے کہ جب اس کی