خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 185
خطبات مسرور جلد 14 185 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 اپریل 2016 بھی دعا کے ساتھ ساتھ اگر کہیں زبر دستی شامل کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے تو مجبوری میں بھی کوئی ایسی حرکت نہ کرے جو جائیدادوں کو نقصان پہنچانے والی ہو، حکومت کے اموال کو نقصان پہنچانے والی ہو۔ہر انسان جو کسی بھی کام سے منسلک ہے وہ اگر اپنے کام میں دلچسپی رکھتا ہے تو اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اسے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ ایک اہم اصول ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مصلح موعودؓ نے وضاحت فرمائی اور پھر مثال بھی دی کہ اگر کوئی فوجی ہے یا جرنیل ہے یا استاد ہے یا جج ہے یا وکیل ہے یا تاجر ہے یا اسمبلی کا سیکرٹری ہے، سپیکر ہے، حکومت کا وزیر ہے، کوئی بھی ہو جو ایمانداری سے کام کرتا ہے ، دل لگا کر کام کرنے والا ہے پور اوقت دینے والا ہے تو شام کو جب تھک کر بیٹھتا ہے تو یہی کہتا ہے کہ تمام دن کی مصروفیت اور بوجھ نے ہماری کمر توڑ دی لیکن جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں تو ہمارے لئے جو اُسوہ آپ نے پیش کیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ ہے کہ یہ تمام کام جو دنیا کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمام کام ان سب سے بڑھ کر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔آپ حج بھی تھے۔آپ استاد بھی تھے۔آپ دوسرے حکومتی فرائض بھی ادا کرتے تھے کیونکہ حکومت کے سر براہ تھے۔قانون سازی فرماتے تھے یا قانون کی وضاحت اور تفصیل بیان فرماتے تھے۔لیکن ساتھ ہی آپ گھر کے کام کاج بھی کر لیتے تھے۔بیویوں کی مدد بھی کرتے تھے۔آپ نے یہ کبھی نہیں فرمایا کہ میں اتنا مصروف انسان ہوں کہ تمہارے گھر میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا۔اس کی تھوڑی سی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے حقوق بھی ادا کرتے تھے اور اتنی توجہ سے ادا کرتے تھے کہ ہر بیوی سمجھتی تھی کہ سب سے زیادہ میں ہی آپ کی توجہ کے نیچے ہوں۔پھر بیوی بھی ایک نہیں۔آپ کی نو بیویاں تھیں۔اور نو بیویوں کے ہوتے ہوئے ایک بیوی بھی یہ خیال نہیں کرتی تھی کہ میری طرف توجہ نہیں کی جاتی۔چنانچہ عصر کی نماز کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ ساری بیویوں کے گھروں میں ایک چکر لگاتے اور ان سے ان کی ضرورتیں دریافت فرماتے۔پھر بعض دفعہ خانگی کاموں میں آپ ان کی مدد بھی فرما دیتے۔اس کام کے علاوہ جو ابھی بیان ہوئے ہیں آپ کے بہت سارے کام تھے۔اور بھی بیسیوں کام ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر انجام دیتے۔آپ کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو فارغ ہو۔مگر آپ بھی اسی ملک میں رہتے ہیں جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ملیریا کی بیماری کا ملک ہے کیونکہ ایشیا اور افریقہ کے بہت سے ممالک میں رہنے والے لوگ اپنی سستی کی وجہ ، کام نہ کرنے کی وجہ اس علاقے میں رہنا بیان کرتے ہیں اور اس لئے کہ یہاں ملیریا کا علاقہ ہے اور سستی پیدا ہو جاتی ہے بیماریاں بہت پید اہوتی ہیں۔اس لئے آپ نے ملیریا کی مثال دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ سارے کام بھی کرتے تھے ، گھریلو کام بھی کرتے تھے باوجود