خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 184 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 184

خطبات مسرور جلد 14 184 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 اپریل 2016 میں بیان کر رہا ہوں جس پر مجھے کئی خطوط بھی آئے ہیں کہ ان مثالوں یا واقعات سے ہمیں آسانی سے بات سمجھ آجاتی ہے۔بہر حال اس حوالے سے آج کا خطبہ بھی ہے۔ایک خطبہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مضمون کو بیان فرمایا کہ ہڑتالیں یاسٹر انکس (strikes) جائز ہیں یا نہیں۔اس بارے میں اصولی طور پر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ہڑتالیں کیوں ہوتی ہیں؟ اس کی بنیادی وجہ کیا ہے ؟ اور وہ یہ ہے کہ حقوق کی ادائیگی نہیں ہوتی۔دنیاوی نظام میں کبھی مالک مزدور کے حق ادا نہیں کرتا اور جب مزدور کو موقع ملتا ہے تو وہ مالک کا حق ادا نہیں کرتا۔ایک بے چینی پیدا ہوتی ہے۔کبھی حکومت رعایا کے حقوق ادا نہیں کرتی اور کبھی رعایا حکومت کے حق ادا نہیں کرتی۔جب مالک اور حکومت حق ادا نہیں کرتے تو ظاہر ہے کہ ایک رد عمل ہوتا ہے لیکن جب مزدور اور رعایا حق ادا نہیں کرتے تو پھر بھی ان پر سختی ہوتی ہے۔تو ان دنیاوی کاموں میں ایک شیطانی چکر ہے جس میں انسان پھنسا ہوا ہے۔اسی لئے اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ تم ایک دوسرے کے لئے غیر نہ بنو بلکہ آپس میں بھائی بھائی سمجھ کر اپنے اپنے حق ادا کرنے کی کوشش کرو تو نظام جو ہے چاہے وہ دنیاوی نظام ہے کبھی خراب نہیں ہو تا۔اس بارے میں اسلامی تعلیم اور اسلامی تمدن کا یہ خلاصہ ہے۔اور یہ صرف اسلامی حکومت تک ہی وابستہ نہیں ہے بلکہ عام دنیاوی حکومت میں بھی اپنے حق ادا کرتے ہوئے کام کرنا چاہئے اور جہاں حق لینے کا سوال ہے وہاں سٹر اٹک کے بجائے، ہڑتالوں کے بجائے، غیر قانونی ذرائع استعمال کرنے کے بجائے، جائز قانونی ذرائع استعمال کرنے چاہئیں۔بہر حال اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ اسلامی عمارت جو تمدن کے متعلق ہے اس کی بنیاد انصاف اور محبت پر ہے۔اس لئے اپنے حقوق کے اصول کے لئے بھی وہی طریق اختیار کرنا چاہئے جو انصاف اور محبت پر مبنی ہو۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جب کہیں سٹر اٹک ہوتی اور کوئی احمدی اس میں شریک ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسے سخت سز ا دیتے اور اس پر اظہار ناراضگی فرماتے۔" (خطبات محمود - جلد 17 صفحہ 133) آجکل اسلامی ممالک میں جو ہڑتالیں اور بغاوتیں ہوتی ہیں سوائے اس کے جہاں شیطانی طاقتیں کام کر رہی ہیں عموماً عوام اور حکومت کے درمیان بے چینیاں ایک دوسرے کے حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔اگر حکومت انصاف پر مبنی نظام چلارہی ہو تو جو شیطانی طاقتیں فساد پھیلاتی ہیں یا بیرونی طاقتیں فساد پھیلاتی ہیں انہیں بھی موقع نہ ملے۔کیونکہ جب عوام کے حق ادا کئے جارہے ہیں تو کوئی کسی مولوی یا کسی فسادی یا کسی شرارت کرنے والے یا کسی باغی یافتنہ و فساد پیدا کرنے والے کے پیچھے نہیں چلتا۔اللہ تعالیٰ مسلمان ممالک کو ، خاص طور پر پاکستان کو ، ان کی حکومتوں کو یہ عقل دے کہ یہ لوگ اپنی رعایا کے حق ادا کرنے والے ہوں۔اسی طرح ہر احمدی کو