خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 181
خطبات مسرور جلد 14 181 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2016 معاف ہو گئیں۔اس کے بارے میں آپ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا کہ یہ فضول امر ہے۔کوئی شک نہیں بالکل فضول بات ہے۔مگر فرمایا کہ ایک دفعہ ایک شخص حضرت علی کے زمانے میں بے وقت نماز پڑھ رہا تھا۔کسی نے حضرت علی سے کہا کہ اسے روکتے کیوں نہیں؟ تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس آیت کے نیچے ملزم نہ بن جاؤں کہ آريْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْدًا إِذَا صَلَّى (العلق : 10-11) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں اگر کسی نے عمد أنماز اس لئے ترک کی ہے کہ قضائے عمری کے دن پڑھ لوں گا تو اس نے ناجائز کیا ہے اور اگر ندامت کے طور پر تدارک مافات کرتا ہے تو پڑھنے دو۔کیوں منع کرتے ہو۔آخر دعا ہی کرتا ہے۔ہاں اس میں پست ہمتی ضرور ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ دیکھو منع کرنے سے کہیں تم بھی اس آیت کے نیچے نہ آجاؤ۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 366) پس جنہیں فتوے کا حق تھا وہ تو اس قدر محتاط تھے لیکن یہ صاحب مبارکباد دینے پر ہی بے انتہا انذار کی خبریں دے رہے ہیں اور فتوے دے رہے ہیں۔اگر ان کے دل میں کچھ تحفظات تھے تو انہیں چاہئے تھا کہ مجھے لکھتے۔اور اگر رو کنا تھا تو یہ خلیفہ وقت کی ذمہ داری ہے کہ خود رو کے یا جماعتی نظام کے ذریعہ سے روکے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔نمازوں کے بعد میں کچھ جنازے بھی پڑھاؤں گا۔دو جنازے حاضر ہیں۔ایک جنازہ مکرمہ محمودہ سعدی صاحبہ کا ہے جو مکرم مصلح الدین صاحب سعدی مرحوم کی اہلیہ تھیں۔22 / مارچ کو 94 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔مصلح الدین سعدی صاحب جن کی یہ اہلیہ تھیں وہ مکرم عبد الرحیم صاحب درد کے بھائی تھے جو امام مسجد فضل رہے ہیں اور انہوں نے یہاں بڑا کام کیا ہے۔سعدی صاحب کی وفات 1965ء میں ہو گئی تھی۔مرحومہ نے 41 سال کا بیوگی کا لمبا عرصہ بڑے صبر شکر سے گزارا ان کے ایک بیٹے حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے زمانے میں وہاں اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔یہ صاحبزادے بھی وفات پاچکے ہیں۔ان کے ایک بیٹے جلال الدین اکبر صاحب یہاں ہیں جو یو کے میں نائب سیکرٹری ضیافت کے طور پر خدمت کرتے رہے ہیں۔مرحومہ کو خلافت سے بڑا تعلق اور عقیدت تھی۔تبلیغ کا شوق، قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے کا شوق، دعا گو اور صابرہ اور شاکرہ تھیں۔گزشتہ چھ سال سے کافی بیمار تھیں اور بیماری کو بھی بڑے صبر اور شکر سے گزارا۔مرحومہ موصیہ تھیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نسل میں ہمیشہ وفا کے ساتھ اور اخلاص کے ساتھ احمدیت کو قائم رکھے۔دو و سرا جنازہ نورالدین چراغ صاحب کا ہے جو چراغ دین صاحب مرحوم قادیان کے بیٹے تھے۔15 / مارچ کو 45 سال کی عمر میں ان کو دل کا دورہ پڑا اور وفات پاگئے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کا تعلق بھی قادیان سے