خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 180 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 180

خطبات مسرور جلد 14 180 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2016 سجدات بجالانے والے ہیں نہ کہ نظریں پھیر کر گزر جانے والے۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر فضل اور احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس زمانے میں پیدا کیا جب مسیح موعود کا ظہور ہوا اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا اور وہ اندھیرا زمانہ گزر گیا جس میں پہلے لوگ پڑے ہوئے تھے۔وہ زمانہ جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا زمانہ تھا ہم اس میں پیدا ہوئے جس کے انتظار میں بیشمار سعید روحیں اس دنیا سے چلی گئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں اس خدا اسے ملایا جو زندہ خدا ہے۔جو آج بھی سنتا ہے اور بولتا ہے جیسے پہلے سنتا اور بولتا تھا۔پس ہمیں شکر گزاری کرنی چاہئے۔اس ضمن میں ایک بات اور بھی کرنا چاہتا ہوں۔گزشتہ دنوں 23 / مارچ کے حوالے سے بعض لوگ جو آجکل طریقہ ہے ایک دوسرے کو masseges کے ذریعہ سے فون پر، واٹس ایپ (WhatsApp) وغیرہ پر مبارکبادیں دے رہے تھے۔اگر تو اس نیت سے مبارکبادیں دی تھیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا اور اس بات کا شکر اور مبارکباد تھی کہ آپ کے ماننے سے ہم ان ہدایت یافتہ مسلمانوں میں شامل ہو گئے جو دین کے مددگار اور اس کی خوبیوں کو دنیا میں پھیلانے والے ہیں تو یقیناً یہ مبارکبادیں دینا ان مبارکباد دینے والوں کا حق تھا۔اس میں کوئی حرج نہیں اور اس میں کوئی بدعت بھی نہیں۔مجھے حیرت ہے کہ ان مبارکباد دینے والوں کو ایک صاحب نے انہی پیغاموں میں اپنے پیغام کے ذریعہ سے ایک بڑا سخت قسم کا خط لکھ کر سختی سے روکا اور کہا کہ اس طرح تم لوگ بدعات میں پڑ جاؤ گے جیسا کہ باقی مسلمان پڑ گئے ہیں۔حیرت ہے ان صاحب پر جو میرے خیال میں دینی علم بھی رکھتے ہیں اور نظام کا بھی ان کو پتا ہے۔وہ کیسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ تم بدعات میں پڑ جاؤ گے۔باقی مسلمانوں کے پاس خلافت کی نعمت نہیں ہے جو کہ احمدیوں کے پاس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے کی وجہ سے ہے۔اگر کوئی غلط بات یا بدعت پیدا ہوتی نظر آئے گی تو اگر خلافت صحیح ہے اور خلافت حقہ ہے تو اسے خود ہی انشاء اللہ تعالیٰ روک لے گی۔پھر اس طرف بھی دیکھنا چاہئے کہ اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ بھی ہے۔لوگوں کی نیتوں پر شبہ نہیں کرنا چاہئے۔کسی نے نیک نیتی سے دی ہوں گی۔پس ان صاحب کو بھی خلافت کی ڈھال کے پیچھے رہتے ہوئے بات کرنی چاہئے تھی۔خلافت کے قدموں سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کریں۔یہ یاد رکھیں جو بھی کرے گا وہ پھسل جائے گا۔ایک اکائی رکھیں۔اپنی ذوقی بات کو افراد جماعت پر ٹھونسنے یا لاگو کرنے کی کوشش نہ کریں۔ایسے لوگوں کے لئے میں ایک مثال دیتا ہوں۔یہ تو ایک ایسی چیز نہیں ہے کہ جو انتہائی غلط ہو لیکن بعض بدعات جو مسلمانوں میں جاری ہیں ان کے بارے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کیا نقطہ نظر تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک دفعہ قضائے عمری جو جمعتہ الوداع پر گزشتہ چھوڑی ہوئی نمازیں لوگ پڑھتے ہیں۔چھوڑی ہوئی ساری نمازیں جمعۃ الوداع پر پڑھ لیتے ہیں یا جمعتہ الوداع پڑھ کر سمجھتے ہیں کہ نمازیں