خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 182
خطبات مسرور جلد 14 182 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2016 تھا۔دس سال سے زائد عرصہ سے یو کے میں مقیم تھے۔طبیعت میں انتہائی سادگی تھی۔ان کی بہن لکھتی ہیں کہ بچپن سے انہوں نے غربت دیکھی تھی اس لئے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں رزق عطا فرمایاتو لالچ نہیں پیدا ہوا بلکہ بہت سے لوگوں کی مالی مدد کرتے تھے۔ان کی ایک ڈائری ملی ہے جس میں 47 لوگوں کا ذکر ہے جن کی آپ باقاعدگی سے مالی مدد کیا کرتے تھے۔ایک غیر احمدی نے بھی ان کی بڑی تعریف کی ہے کہ بڑے بچے اور فرشتہ صفت تھے۔نمازوں کے پابند ، خلافت سے انتہائی درجہ تعلق رکھنے والے، بزرگان سلسلہ کا احترام کرنے والے نوجوان تھے۔مرحوم کی والدہ اور باقی فیملی قادیان میں ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور خاص طور پر ان کی والدہ کو اللہ تعالیٰ سکون دے۔ایک جنازہ غائب ہے جو سیدۃ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم عبد الباری صاحب تعلقدار بنگالی کا ہے۔یہ 20 / مارچ کو 83 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔کچھ عرصہ سے بیمار تھیں۔یہ بہار میں پیدا ہوئیں۔ان کے والد سید موسیٰ رضا بھاگل پور بہار کے تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے زمانے میں ان کے والد نے 15 سال کی عمر میں احمدیت قبول کی۔پھر ان کی شادی عبد الباری صاحب تعلقدار سے ہو گئی اور مشرقی پاکستان چلی گئیں۔تقسیم ہندوستان کے بعد یہ لوگ وہاں چلے گئے۔عبد الباری صاحب نے 1946ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے زمانے میں بیعت کی تھی۔بنگلہ دیش کے قیام کے بعد پھر یہ لوگ ربوہ منتقل ہو گئے اور 20 سال سے زائد عرصہ ان کے خاوند باری صاحب نے، فضل عمر ہو میو پیتھک ڈسپنسری میں کام کیا جو وقف جدید کے تحت چل رہی تھی۔یہاں آپ کے بیٹے عبد الخالق صاحب بنگالی ہیں جو اپنے حلقے میں کافی جانے جاتے ہیں۔جماعت میں کافی خدمت کرتے ہیں۔عبد الباری صاحب نے اپنے بچوں کو اردو سکھانے کے لئے اپنی بیوی سمیت ربوہ بھجوادیا تھا اور وہاں بنگلہ دیش میں (یہ اس وقت مشرقی پاکستان تھا) بڑے اچھی آسائش کی زندگی گزار رہی تھیں اور نوکر چاکر موجود تھے لیکن بچوں کی خاطر اور تربیت کی خاطر یہ لوگ ربوہ آگئے اور پھر یہیں رہے تاکہ اردو سیکھیں اور جماعت کا زیادہ پتا لگے اور خلافت کے قریب رہیں۔اس لحاظ سے انہوں نے بڑی قربانی دی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کے بچوں کو ان مقاصد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس کے لئے انہوں نے قربانی دی اور ربوہ میں آکر رہیں۔یہ تین جنازے انشاء اللہ جیسا کہ میں نے کہا ابھی نمازوں کے بعد پڑھاؤں گا۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 15 / اپریل 2016ء تا21 / اپریل 2016ء جلد 23 شمارہ 16 صفحہ 05 تا 09)