خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 179
خطبات مسرور جلد 14 179 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2016 سے بہت دُور ہے اور وہ یہ ہے کہ تم اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرو اور بالکل ایک نئے انسان بن جاؤ۔اس لئے ہر ایک کو تم میں سے ضروری ہے کہ وہ اس راز کو سمجھے اور ایسی تبدیلی کرے کہ وہ کہہ سکے کہ میں اور ہوں۔" آپ فرماتے ہیں: " میں پھر کہتا ہوں کہ یقیناً یقیناً جب تک ایک مدت تک ہماری صحبت میں رہ کر کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں اور ہو گیا ہوں اُسے فائدہ نہیں پہنچتا۔" فرمایا " فطرت اور عقلی حالت اور جذبات کی حالت میں اعلیٰ درجہ کی صفائی حاصل ہو جاوے تو کچھ بات ہے۔ورنہ کچھ بھی نہیں۔" سے وہ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 72-73) پھر آپ نے فرمایا کہ " اگر تم ایماندار ہو تو شکر کرو اور شکر کے سجدات بجالاؤ کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آباء گزر گئے اور بیشمار روحیں اس کے شوق میں ہی سفر کر گئیں۔" آپ نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا۔" وہ وقت تم نے پالیا۔اب اس کی قدر کرنا یا نہ کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا یانہ اٹھانا تمہارے ہاتھ میں ہے۔میں اس کو بار بار بیان کروں گا اور اس کے اظہار سے میں رُک نہیں سکتا کہ میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا تادین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔میں اُس طرح بھیجا گیا ہوں جس طرح شخص بعد کلیم اللہ مردِ خدا کے بھیجا گیا تھا جس کی روح ہیروڈیس کے عہد حکومت میں بہت تکلیفوں کے بعد آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔سو جب دوسرا کلیم اللہ جو حقیقت میں سب سے پہلا اور سید الانبیاء ہے دوسرے فرعونوں کی سرکوبی کے لئے آیا جس کے حق میں ہے اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فرْعَوْنَ رَسُولًا (المزمل: 16)۔تو اس کو بھی جو اپنی کارروائیوں میں کلیم اول کا مثیل مگر رتبہ میں اس سے بزرگ تر تھا ایک مثیل المسیح کا وعدہ دیا گیا اور وہ مشیل المسیح قوت اور طبع اور خاصیت مسیح ابن مریم کی پاکر اُسی زمانے کی مانند اور اسی مدت کے قریب قریب جو کلیم اول کے زمانہ سے مسیح ابن مریم کے زمانہ تک تھی یعنی چودھویں صدی میں آسمان سے اترا۔اور وہ اتر نا روحانی طور پر تھا جیسا کہ مکمل لوگوں کا صعود کے بعد خلق اللہ کی اصلاح کے لئے نزول ہو تا ہے۔اور سب باتوں میں اُسی زمانہ کے ہمشکل زمانہ میں اُترا اجو مسیح ابن مریم کے اترنے کا زمانہ تھا تا سمجھنے والوں کے لئے نشان ہو۔پس ہر ایک کو چاہئے کہ اس سے انکار کرنے میں جلدی نہ کرے تا خدا تعالیٰ سے لڑنے والا نہ ٹھہرے۔دنیا کے لوگ جو تاریک خیال اور اپنے پرانے تصورات پر جمے ہوئے ہیں وہ اس کو قبول نہیں کریں گے مگر عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے جو اُن کی غلطی ان پر ظاہر کر دے گا۔" دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہیں کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔" فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 7 تا 9) پس ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم نے آنے والے مسیح موعود کو مان لیا اور بیعت کے ساتھ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے اور قرآنی تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرنے کا عہد کیا اور ان لوگوں میں شامل ہوئے جو شکر کے