خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 178

خطبات مسرور جلد 14 178 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2016 یہ چار نشان ہیں جو خاص طور پر میری صداقت کے لیے مجھے ملے ہیں۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 277-278) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب لکھتے ہیں۔17 / اگست 1899ء کو انہوں نے تحریر کیا کہ "چند روز ہوئے بریلی سے ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں لکھا کہ کیا آپ وہی مسیح موعود ہیں جس کی نسبت رسول خدا "صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" نے احادیث میں خبر دی ہے ؟ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر آپ اس کا جواب لکھیں۔" مولوی عبد الکریم صاحب خطوں کا جواب دیا کرتے تھے، کہتے ہیں کہ "میں نے معمولارسالہ "تریاق القلوب" سے دو ایک ایسے فقرے جو اس کا کافی جواب ہو سکتے تھے لکھ دیئے۔وہ شخص اس پر قانع نہ ہوا" تسلی نہیں ہوئی " اور پھر مجھے مخاطب کر کے لکھا کہ "میں چاہتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب خود اپنے قلم سے قسمیہ لکھیں کہ آیا وہ وہی مسیح موعود ہیں جس کا ذکر احادیث اور قرآن شریف میں ہے ؟۔" میں نے شام کی نماز کے بعد دوات قلم اور کاغذ حضرت کے "حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے " آگے رکھ دیا اور عرض کیا کہ ایک شخص ایسا لکھتا ہے۔حضرت "صاحب " نے فورا کاغذ ہاتھ میں لیا اور یہ چند سطریں لکھ دیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا کہ : " میں نے پہلے بھی اِس اقرار مفضل ذیل کو اپنی کتابوں میں قسم کے ساتھ لوگوں پر ظاہر کیا ہے اور اب بھی اس پر چہ میں اُس خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن احادیث صحیحہ میں دی ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور دوسری صحاح میں درج ہیں۔وگفَی بِاللهِ شَهِيدًا - الراقم مرزا غلام احمد عفا اللہ عنہ وائیڈ 17 / اگست 1899ء۔" مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ " اس ذکر سے میری دو غرضیں ہیں۔ایک یہ کہ اپنی جماعت کا ایمان بڑھے اور انہیں وہی ذوق اور سرور حاصل ہو جو یہاں کے خوش قسمت حاضرین کو اس گھڑی حاصل ہوا اور انہوں نے سچے دل سے اعتراف کیا کہ ان کو نیا ایمان ملا ہے۔اور دوسرے یہ کہ منکرین اور بد ظن اس علمی بصیرت قسم پر ٹھنڈے دل سے غور کریں اور سوچیں کہ متعمد، کذاب اور مفتری مختلق کی یہ شان اور اسے یہ جرآت ہو سکتی ہے کہ ذوالجلال خدا کی ایسی اور اس طرح اور ایسے مجمع میں قسم کھائے اللهُ أَكْبَرِ اللَّهُ أَكْبَرِ! اللَّهُ أَكْبَر!" لملفوظات جلد 1 صفحہ 326-327) پھر افراد جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے ایک موقع پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : میں نہیں چاہتا کہ چند الفاظ طوطے کی طرح بیعت کے وقت رٹ لئے جاویں۔اس سے کچھ فائدہ نہیں۔تزکیہ نفس کا علم حاصل کرو کہ ضرورت اسی کی ہے۔یعنی یہ سمجھو کہ تزکیہ نفس کیا چیز ہے پھر اپنے اوپر لاگو بھی کرو۔"ہماری یہ غرض ہر گز نہیں کہ مسیح کی وفات حیات پر جھگڑے اور مباحثہ کرتے پھرو۔یہ ایک ادنی سی بات ہے۔اسی پر بس نہیں ہے۔یہ تو ایک غلطی تھی جس کی ہم نے اصلاح کر دی۔لیکن ہمارا کام اور ہماری غرض ابھی اس