خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 177 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 177

خطبات مسرور جلد 14 177 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2016 جو لوگ عربی املاء اور انشاء میں پڑے ہیں وہ اس کی مشکلات کا اندازہ کر سکتے ہیں اور اس کی خوبیوں کا لحاظ رکھ سکتے ہیں۔" آپ فرماتے ہیں کہ "مولوی صاحب "مولوی عبد الکریم صاحب سے مراد تھی " شروع سے دیکھتے رہے ہیں کہ کس طرح پر اللہ تعالیٰ نے اعجازی طور پر مدد دی ہے۔بڑی مشکل آکر یہ پڑتی ہے جب ٹھیٹھ زبان کا لفظ مناسب موقع پر نہیں ملتا۔اُس وقت خدا تعالیٰ وہ الفاظ القاء کرتا ہے۔نئی اور بناوٹی زبان بنالینا آسان ہے مگر ٹھیٹھ زبان مشکل ہے۔پھر ہم نے ان تصانیف کو بیش قرار انعامات کے ساتھ شائع کیا ہے اور کہا ہے کہ تم جس سے چاہو مدد لے لو اور خواہ اہل زبان بھی ملالو۔مجھے خدا تعالیٰ نے اس بات کا یقین دلا دیا ہے کہ وہ ہر گز قادر نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ نشان قرآن کریم کے خوارق میں سے ظلتی طور پر مجھے دیا گیا ہے۔" دوسرا یہ ہے کہ " دعاؤں کا قبول ہونا۔میں نے عربی تصانیف کے دوران میں تجربہ کر کے دیکھ لیا ہے کہ کس قدر کثرت سے میری دعائیں قبول ہوئی ہیں۔ایک ایک لفظ پر دعا کی ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو مستی کرتا ہوں۔ان کا مقام تو بہت بلند ہے " کیونکہ ان کی طفیل اور اقتداء سے ہی تو یہ سب کچھ ملا ہے " اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میری دعائیں اس قدر قبول ہوئی ہیں کہ کسی کی نہیں ہوئی ہوں گی۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کسی بھی نبی کی اتنی دعائیں قبول نہیں ہو ئیں جتنی آپ نے فرمایا کہ میری ہوئی ہیں۔"میں نہیں کہہ سکتا کہ دس ہزار یا دولاکھ یا کتنی اور بعض نشانات قبولیت کے تو ایسے ہیں کہ ایک عالم اُن کو جانتا ہے۔تیسر انشان پیشگوئیوں کا ہے یعنی اظہار علی الغیب۔یوں تو نجومی اور رتال لوگ بھی اٹکل بازیوں سے بعض باتیں ایسی کہہ دیتے ہیں کہ ان کا کچھ نہ کچھ حصہ ٹھیک ہوتا ہے اور ایسا ہی تاریخ ہم کو بتلاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی کا ہن لوگ تھے جو غیب کی خبریں بتلاتے تھے۔چنانچہ سطیح بھی ایک کا ہن تھا مگر ان انکل باز رتالوں اور کاہنوں کی غیب دانی اور مامور من اللہ اور ملہم کے اظہار غیب میں یہ فرق ہوتا ہے کہ ملہم کا اظہار غیب اپنے اندر الہی طاقت اور خدائی ہیبت رکھتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے صاف طور پر فرمایا ہے لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَطَى مِنْ رَّسُولٍ (الجن: 27-28)۔یہاں اظہار کا لفظ ہی ظاہر کرتا ہے کہ اس کے اندر ایک شوکت اور قوت ہوتی ہے۔چوتھا نشان قرآن کریم کے دقائق اور معارف کا ہے کیونکہ معارف قرآن اس شخص کے سوا اور کسی پر نہیں کھل سکتے جس کی تطہیر ہو چکی ہو۔لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة 80 )۔میں نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ میرے مخالف بھی ایک سورۃ کی تفسیر کریں اور میں بھی تفسیر کرتا ہوں۔پھر مقابلہ کر لیا جاوے مگر کسی نے جرات نہیں کی۔محمد حسین وغیرہ نے تو یہ کہہ دیا کہ ان کو عربی کا صیغہ نہیں آتا اور جب کتابیں پیش کی گئیں تو بو دے اور رقیق عذر کر کے ٹال دیا کہ یہ عربی تو اروی کچالو ہے مگر یہ نہ ہو سکا کہ ایک صفحہ ہی بنا کر پیش کر دیتا اور دکھا دیتا کہ عربی یہ ہے۔غرض