خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 176
خطبات مسرور جلد 14 176 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2016 ساتھ امت مسلمہ کو ہے اس لحاظ سے بھی ضرورت ہے۔" اس لئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں آئے تھے۔غرض میں تو بروز کی ایک نظیر پیش کرتا ہوں لیکن جو یہ کہتے ہیں کہ نہیں خود حضرت مسیح ہی دوبارہ آئیں گے انہیں بھی تو کوئی نظیر پیش کرنی چاہئے۔اور اگر وہ نہیں کر سکتے اور یقینا نہیں کر سکتے تو پھر کیوں ایسی بات کرتے ہیں جو محدثات میں داخل ہے۔" جو نئی پیدا کی گئی باتیں ہیں۔" محدثات سے پر ہیز کرو کیونکہ وہ ہلاکت کی راہ ہے۔یہودیوں پر غضب الہی اسی وجہ سے نازل ہوا کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے ایک رسول کا انکار کر دیا اور اس انکار کے لئے ان کو یہ مصیبت پیش آئی کہ انہوں نے استعارہ کو حقیقت پر حمل کیا۔" یعنی ایک اشارہ کی بات تھی، استعارہ کی بات تھی اس کو وہ سمجھے کہ حقیقتا اسی طرح ہی ہونا ہے۔" اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مغضوب قوم ٹھہر گئی۔اس کا ہم شکل مقد مہ اب بھی پیش ہے۔یعنی وہی صورت جو اُن کے ساتھ تھی اب بھی وہی صور تحال پیش ہے۔" مجھے مسلمانوں کی حالت پر افسوس آتا ہے کہ ان کے سامنے یہودیوں کی ایک نظیر پہلے سے موجود ہے اور پانچ وقت یہ اپنی نمازوں میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعا کرتے ہیں اور یہ بھی بالاتفاق مانتے ہیں کہ اس سے مراد یہود ہیں۔پھر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس راہ کو یہ کیوں اختیار کرتے ہیں۔ایک ہی رنگ کا مقدمہ جب کہ ایک پیغمبر کے حضور فیصلہ ہو چکا ہے، اب اس فیصلہ کے خلاف مسیح کو خود آسمان سے یہ کیوں اتارتے ہیں؟ آپ ہی مسیح نے ایلیاء کے مقدمہ کا فیصلہ کیا اور ثابت کر دیا کہ دوبارہ آمد سے بروزی آمد مراد ہوتی ہے اور ایلیا کے رنگ میں بیچی آیا۔مگر اب یہ مسلمان اس نظیر کے ہوتے ہوئے بھی اس وقت تک راضی نہیں ہوتے جب تک خود مسیح کو آسمان سے نہ اتار لیں۔لیکن میں کہتا ہوں کہ تم اور تمہارے سب معاون مل کر دعائیں کرو کہ مسیح آسمان سے اتر آوے۔پھر دیکھ لو کہ وہ اترتا ہے یا نہیں۔میں یقینا کہتا ہوں کہ اگر ساری عمر ٹکریں مارتے رہو اور ایسی دعائیں کرتے کرتے ناک بھی رگڑے جاویں تب بھی وہ آسمان سے نہیں آئے گا کیونکہ آنے والا تو آچکا۔" (ملفوظات جلد 8 صفحہ 3-4) کاش کہ اس نکتے کو مسلمان سمجھ لیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے کی مخالفت کرنے کی بجائے اس کے ساتھ جڑ کر اسلام کی حقیقی تعلیم کو دنیا میں لاگو کرنے والے بنیں اور ہر سطح پر انصاف اور امن قائم کرنے کی کوشش کریں۔مسلمانوں کے خلاف جو غیر مسلم اور لادین طبقہ ہے اس کو اسلام کی حقیقی تصویر دکھا کر ان مسلمانوں کو اسلام کی خدمت کرنے والے بننا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اپنی صداقت پر چار قسم کے نشانات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " اول عربی دانی کا نشان ہے اور یہ اس وقت سے مجھے ملا ہے جب سے کہ محمد حسین بٹالوی صاحب" نے یہ لکھا کہ یہ عاجز عربی کا ایک صیغہ بھی نہیں جانتا۔حالانکہ ہم نے کبھی دعویٰ بھی نہیں کیا تھا کہ عربی کا صیغہ آتا ہے۔