خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 173 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 173

خطبات مسرور جلد 14 173 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2016 آج 127 سال ہونے کے بعد بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات آپ کے ساتھ ہیں اور یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر رہا ہے۔پس یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی حالتوں میں پاک تبدیلی پیدا کرتے ہوئے اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقاصد کے حصول میں معاون بنائیں اور اس فیض سے حصہ پائیں جو آپ کی بعثت کا مقصد ہے جو آپ کے ماننے سے ملنا ہے۔ورنہ جیسا کہ آپ نے فرمایا آپ کو ہم میں سے کسی کی بھی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ خود ہی فرشتوں کے ذریعہ آپ کی مدد فرما کر آپ کے سلسلے کو ترقی دے سکتا ہے اور دیتا ہے۔پھر اپنی بعثت کے مقصد کو بیان فرماتے ہوئے ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ: " خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے کہ میں ان خزائن مدفونہ کو دنیا پر ظاہر کروں اور ناپاک اعتراضات کا کیچڑ جو اُن درخشاں جواہرات پر تھوپا گیا ہے اس سے ان کو پاک صاف کروں۔خدا تعالی کی غیرت اس وقت بڑی جوش میں ہے کہ قرآن شریف کی عزت کو ہر ایک خبیث دشمن کے داغ اعتراض سے منزہ و مقدس کرے۔الغرض ایسی صورت میں کہ مخالفین قلم سے ہم پر وار کرنا چاہتے ہیں اور کرتے ہیں کس قدر بے وقوفی ہو گی کہ ہم ان سے لٹھم لٹھا ہونے کو تیار ہو جائیں۔میں تمہیں کھول کر بتلاتا ہوں کہ ایسی صورت میں اگر کوئی اسلام کا نام لے کر جنگ و جدال کا طریق جواب میں اختیار کرے تو وہ اسلام کو بد نام کرنے والا ہو گا اور اسلام کا کبھی ایسا منشاء نہ تھا کہ بے مطلب اور بلا ضرورت تلوار اٹھائی جائے۔اب لڑائیوں کی اغراض جیسا کہ میں نے کہا ہے فن کی شکل میں آکر دینی نہیں رہیں بلکہ دنیوی اغراض ان کا موضوع ہو گیا ہے۔پس کس قدر ظلم ہو گا کہ اعتراض کرنے والوں کو جواب دینے کی بجائے تلوار دکھائی جائے۔اب زمانہ کے ساتھ حرب کا پہلو بدل گیا ہے۔"جنگ کا جو پہلو تھا وہ بدل گیا ہے" اس لئے ضرورت ہے کہ سب سے پہلے اپنے دل اور دماغ سے کام لیں اور نفوس کا تزکیہ کریں۔راستبازی اور تقویٰ سے خدا تعالیٰ سے امداد اور فتح چاہیں۔یہ خد اتعالیٰ کا ایک اٹل قانون اور مستحکم اصول ہے اور اگر مسلمان صرف قیل و قال اور باتوں سے مقابلہ میں کامیابی اور فتح پانا چاہیں تو یہ ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ لاف و گزاف اور لفظوں کو نہیں چاہتا وہ تو حقیقی تقویٰ کو چاہتا اور سچی طہارت کو پسند فرماتا ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ تُحْسِنُونَ (النحل: 129) - " ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 60-61) پس یہ تقویٰ ہے جو ہم نے اپنے اندر پیدا کر کے اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا کو بتانی ہے۔مسلمانوں کو بھی بتانا ہے کہ اسلام کا پھیلنا تقویٰ سے مشروط ہے۔پس بجائے ظلم و تعدی میں بڑھنے کے تقویٰ پیدا کرو۔تقویٰ میں بڑھو۔یہ اسلام کے نام پر جو حملے ہوتے ہیں یہ اسلام کی حمایت نہیں ہے بلکہ یہ بدنامی کا ذریعہ ہے اور معصوموں کا قتل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ذریعہ بن رہا ہے۔گزشتہ دنوں میں بیلجیئم میں جو معصوموں کا قتل ہوا ہے، یہ دہشت گر دی جو ہوتی ہے جس سے درجنوں