خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 174 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 174

خطبات مسرور جلد 14 معصوم 174 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2016 وم قتل ہوئے ہیں اور سینکڑوں زخمی بھی ہوئے ہیں یہ کبھی بھی خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے نہیں ہو سکتے۔اور اس زمانے میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھل کر بتا دیا ہے کہ اب دین کے لئے جنگ و جدل حرام ہے، یہ حرکتیں خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بن رہی ہیں۔اور اس زمانے میں کوئی نہیں کہ سکتا کہ ہمیں یہ پیغام پہنچا ہے۔ہر ایک جانتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ پیغام بڑا واضح ہے کہ اب دین کے لئے یہ جنگیں حرام ہیں۔اللہ تعالیٰ دین کے نام پر ظلم کرنے والوں یا مسلمان ہوتے ہوئے ظلم کرنے والوں کو عقل دے چاہے وہ حکومتیں ہیں یا گروہ ہیں کہ وہ زمانے کے امام کی آواز کو سنیں اور ظلموں سے باز آئیں اور اس حقیقی ہتھیار کو استعمال کریں جو اس زمانے میں مسیح موعود کو عطا فرمایا ہے۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اس وقت جو ضرورت ہے وہ یقینا سمجھ لوسیف کی نہیں بلکہ قلم کی ہے۔ہمارے مخالفین نے اسلام پر جو شبہات وارد کئے ہیں اور مختلف سائنسوں اور مکائد کی رُو سے اللہ تعالیٰ کے سچے مذہب پر حملہ کرنا چاہا ہے اس نے مجھے متوجہ کیا ہے کہ میں قلمی اسلحہ پہن کر اس سائنس اور علمی ترقی کے میدانِ کارزار میں اتروں اور اسلام کی روحانی شجاعت اور باطنی قوت کا کرشمہ بھی دکھلاؤں۔میں کب اس میدان کے قابل ہو سکتا تھا۔یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اس کے دین کی عزت ظاہر ہو۔میں نے ایک وقت اُن اعتراضات اور حملات کو شمار کیا تھا جو اسلام پر ہمارے مخالفین نے کئے ہیں تو ان کی تعد اد میرے خیال اور اندازے میں تین ہزار ہوئی تھی۔" آپ فرماتے ہیں " اور میں سمجھتا ہوں کہ اب تو تعداد اور بھی بڑھ گئی ہو گی۔" اور فرمایا کہ "کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اسلام کی بنا ایسی کمزور باتوں پر ہے کہ اس پر تین ہزار اعتراض وارد ہو سکتا ہے۔نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے۔یہ اعتراضات تو کو تاہ اندیشوں اور نادانوں کی نظر میں اعتراض ہیں۔مگر میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے جہاں ان اعتراضات کو شمار کیا وہاں یہ بھی غور کیا ہے کہ ان اعتراضات کی تہ میں دراصل بہت ہی نادر صداقتیں موجود ہیں جو عدم بصیرت کی وجہ سے معترضین کو دکھائی نہیں دیں اور در حقیقت یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جہاں نابینا معترض آکر انکا ہے وہیں حقائق و معارف کا مخفی خزانہ رکھا ہے۔( ملفوظات جلد 1 صفحه 59-60) پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلامی نور دکھانے کے لئے آپ کو بھیجا ہے اور یہ کہ عیسائیت کا عقیدہ تو ایسا ہے جس کی خود انہیں بھی سمجھ نہیں ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ " گلے پڑا ڈھول ہے جو یہ لوگ بجارہے ہیں۔غرض ان لوگوں کے عقائد کا کہاں تک ذکر کیا جاوے۔حقیقت وہی ہے جو اسلام لے کر آیا اور خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا کہ میں اس نور کو جو اسلام میں ملتا ہے اُن کو جو حقیقت کے جو یاں ہوں دکھاؤں۔سچ یہی