خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 172
خطبات مسرور جلد 14 172 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2016 آپ فرماتے ہیں کہ " اگر اس وقت حمایت اور نصرت اور حفاظت نہ کی جاتی تو وہ اور کون سا وقت آئے گا؟ اب اس چودھویں صدی میں وہی حالت ہو رہی ہے جو بدر کے موقعہ پر ہو گئی تھی۔جس کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ اَذِلَّةٌ (آل عمران : 124)۔" یعنی اور بدر کی جنگ میں جب کہ تم حقیر تھے اللہ یقیناً تمہیں مدد دے چکا ہے۔فرمایا کہ " اس آیت میں بھی دراصل ایک پیشگوئی مرکوز تھی۔یعنی جب چودھویں صدی میں اسلام ضعیف اور ناتواں ہو جائے گا۔اس وقت اللہ تعالیٰ اس وعدہ حفاظت کے موافق اس کی نصرت کرے گا۔پھر تم کیوں تعجب کرتے ہو کہ اس نے اسلام کی نصرت کی؟ مجھے اس بات کا افسوس نہیں کہ میرا نام دنجال اور کذاب رکھا جاتا ہے اور مجھ پر تہمتیں لگائی جاتی ہیں۔اس لئے کہ یہ ضرور تھا کہ میرے ساتھ وہی سلوک ہو تاجو مجھ سے پہلے فرستادوں کے ساتھ ہوا تا میں بھی اس قدیمی سنت سے حصہ پاتا۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 245-246) پھر ایک موقع پر بعثت مسیح موعود کے مقاصد بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : "میرے آنے کے دو مقصد ہیں۔مسلمانوں کے لئے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت پر قائم ہو جائیں وہ ایسے سچے مسلمان ہوں جو مسلمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے۔اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آوے۔دنیا اس کو بالکل بھول جاوے۔خدائے واحد کی عبادت ہو۔میرے ان مقاصد کو دیکھ کر یہ لوگ میری مخالفت کیوں کرتے ہیں۔انہیں یادرکھنا چاہئے کہ جو کام نفاق طبعی اور دنیا کی گندی زندگی کے ساتھ ہوں گے وہ خود ہی اس زہر سے ہلاک ہو جائیں گے۔کیا کا ذب کبھی کامیاب ہو سکتا ہے ؟ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفْ كَذَّابٌ (المومن: 29)" یعنی یقینا اللہ تعالیٰ حد سے بڑھے ہوئے اور جھوٹے کو کبھی کامیاب نہیں کرتا۔فرمایا کہ "کذاب کی ہلاکت کے واسطے اس کا کذب ہی کافی ہے۔لیکن جو کام اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کے رسول کی برکات کے اظہار اور ثبوت کے لئے ہوں اور خود اللہ تعالیٰ کے اپنے ہی ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہو۔پھر اس کی حفاظت تو خود فرشتے کرتے ہیں۔کون ہے جو اس کو تلف کر سکے ؟ یاد رکھو میر اسلسلہ اگر نری دوکانداری ہے تو اس کا نام و نشان مٹ جائے گا۔لیکن اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یقینا اسی کی طرف سے ہے تو ساری دنیا اس کی مخالفت کرے یہ بڑھے گا اور پھیلے گا اور فرشتے اس کی حفاظت کریں گے"۔انشاء اللہ اگر ایک شخص بھی میرے ساتھ نہ ہو اور کوئی بھی مدد نہ دے تب بھی میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ سلسلہ کامیاب ہو گا۔مخالفت کی میں پروا نہیں کرتا۔میں اس کو بھی اپنے سلسلے کی ترقی کے لئے لازمی سمجھتا ہوں۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ خدا تعالیٰ کا کوئی مامور اور خلیفہ دنیا میں آیا ہو اور لوگوں نے چپ چاپ اسے قبول کر لیا ہو۔دنیا کی تو عجیب حالت ہے۔انسان کیسا ہی صدیق فطرت رکھتا ہو مگر دوسرے اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔وہ تو اعتراض کرتے ہی رہتے ہیں۔" (ملفوظات جلد 8 صفحہ 148)