خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 171 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 171

خطبات مسرور جلد 14 171 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2016 بندوں کو ، اپنے فرستادوں کو جواب بھی دیتا ہے جس طرح پہلے دیتا تھا۔اپنے خالص بندوں کے دلوں کی تسلی کے سامان بھی کرتا ہے۔دنیا کو ہم نے بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد و یگانہ ہے۔ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے، ختم ہونے والی ہے۔صرف اُسی کی ذات ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔پس ہماری بقا اس واحد و یگانہ اور ہمیشہ رہنے والے خدا سے جڑنے میں ہی ہے۔جب 23 / مارچ کو ہم یوم مسیح موعود مناتے ہیں تو ہمیں ان باتوں کے جائزے بھی لینے چاہئیں کہ یہ باتیں حضرت مسیح موعود د نیا میں پیدا کرنے آئے تھے اور ہم جو آپ کے ماننے والے ہیں کیا ہم میں یہ باتیں پید اہو گئی ہیں یا کیا ہم اس انقلاب کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پھر اور بہت سی جگہوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بعثت کے مقصد اور غرض کی کچھ تفصیل بھی بیان فرمائی ہے۔آپ علیہ السلام کے بعض اقتباسات میں پیش کر تاہوں۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ " یہ عاجز تو محض اس غرض کے لئے بھیجا گیا ہے کہ تا یہ پیغام خلق اللہ کو پہنچاوے کہ دنیا کے تمام مذاہب موجودہ میں سے وہ مذہب حق پر اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے جو قرآن کریم لایا ہے اور دار النجات میں داخل ہونے کے لئے دروازہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله ہے۔" (ملفوظات جلد 2 صفحہ 132) پھر ایک موقع پر آپ نے فرمایا: اس بات کو بھی دل سے سنو کہ میرے مبعوث ہونے کی علت غائی کیا ہے۔؟ غرض کیا ہے ؟ بنیادی مقصد کیا ہے ؟" میرے آنے کی غرض اور مقصود صرف اسلام کی تجدید اور تائید ہے۔اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ کوئی نئی شریعت سکھاؤں یانئے احکام دوں یا کوئی نئی کتاب نازل ہو گی۔ہر گز نہیں۔اگر کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے تو میرے نزدیک وہ سخت گمراہ اور بے دین ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر شریعت اور نبوت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔اب کوئی شریعت نہیں آسکتی۔قرآن مجید خاتم الکتب ہے۔اس میں اب ایک شعشہ یا نقطہ کی کمی بیشی کی گنجائش نہیں ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات اور فیوضات اور قرآن شریف کی تعلیم اور ہدایت کے ثمرات کا خاتمہ نہیں ہو گیا۔وہ ہر زمانہ میں تازہ بتازہ موجود ہیں اور انہیں فیوضات اور برکات کے ثبوت کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے۔اسلام کی جو حالت اس وقت ہے وہ پوشیدہ نہیں۔بالا تفاق مان لیا گیا ہے کہ ہر قسم کی کمزوریوں اور تنزل کا نشانہ مسلمان ہو رہے ہیں ہر پہلو سے وہ گر رہے ہیں۔ان کی زبان ساتھ ہے تو دل نہیں ہے اور اسلام یتیم ہو گیا ہے۔ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اس کی حمایت اور سر پرستی کروں اور اپنے وعدہ کے موافق بھیجا ہے۔کیونکہ اس نے فرمایا تھا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر: 10)۔" یعنی ہم نے ہی یہ ذکر اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔یعنی قرآن کریم کی تعلیم کو پھیلانے اور اس کی حفاظت کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنی ذمہ داری لی ہے اور اسی مقصد کے لئے مسیح موعود کو بھیجا ہے۔