خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 167
خطبات مسرور جلد 14 167 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2016 چلے گئے۔آپ کا عام طریق وہابیوں سے ملتا جلتا تھا کیونکہ وہابی حدیثوں کے مطابق عمل کرنا اپنے لئے ضروری جانتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا ہی انسان کی نجات کے لئے ضروری ہے۔غرض آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گئے اور جمعہ کی نماز پڑھی۔جب مولوی غلام علی صاحب جمعہ کی نماز سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے چار رکعت ظہر کی نماز پڑھ لی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ میں نے ان سے کہا کہ مولوی صاحب یہ جمعہ کی نماز کے بعد چار رکعتیں کیسی ہیں۔وہ کہنے لگے یہ احتیاطی ہیں۔تو میں نے کہا مولوی صاحب آپ تو وہابی ہیں اور عقیدۃ اس کے مخالف ہیں۔پھر احتیاطی کے کیا معنی ہوئے۔تو کہنے لگے یہ احتیاطی ان معنوں میں نہیں کہ خدا کے سامنے ہمارا جمعہ قبول ہوتا ہے یا ظہر۔بلکہ یہ ان معنوں میں ہے کہ لوگ مخالفت نہ کریں۔لوگوں کا ڈر ہے۔تو کئی لوگ اس طرح بھی کام کر لیتے ہیں جیسے مولوی غلام علی صاحب نے کیا کہ وہ اپنے دل میں تو اس بات سے خوش رہے کہ انہوں نے جمعہ پڑھا ہے اور ادھر لوگوں کو خوش کرنے کے لئے چار رکعت ظہر کی نماز بھی پڑھ لی۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 382-383) حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک دفعہ ایک مجلس میں کسی نے عرض کیا کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگ داڑھیاں منڈواتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اصل چیز تو محبت الہی ہے۔جب ان لوگوں کے دلوں میں محبت الہی پیدا ہو جائے گی تب خود بخود یہ لوگ ہماری نقل کرنے لگ جائیں گے۔(ماخوذاز ہمارے ذمہ تمام دنیا کی فتح کرنے کا کام ہے۔انوار العلوم جلد 18 صفحہ 465) اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم حقیقی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتوں کو سمجھنے والے ہوں اور حقیقی محبت الہی ہم میں پیدا ہو جائے اور ہمارا ہر عمل اور فعل خد اتعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہو۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔یہ مکرم عبد النور جابی صاحب سیریا کا ہے 1989ء کی ان کی پیدائش ہے۔غالباً ان کو وہاں کی حکومت نے گرفتار کر لیا۔صحیح طرح پورے کو ائف بھی نہیں لکھے۔بہر حال جو کوائف موجود ہیں اس کے مطابق چند ماہ قبل انہوں نے بزنس مینجمنٹ کی یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی تھی۔31 دسمبر 2013ء کو ہاں حکومتی کارندوں نے ہی آپ کو گرفتار کیا تھا اور گرفتاری کی وجہ یہ تھی کہ کسی نے ان کا موبائل فون عاریتا لے کر وہاں کے باغیوں کو فون کیا تھا۔یہ سیریا میں حالات خراب ہونے کے ابتدائی ایام کی بات ہے۔جب کسی کو ضرورت کے وقت عاریتاً فون دینا اس وقت کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہوتی تھی تو بہر حال باغیوں میں سے کسی نے ان کا فون لے کر اپنے ساتھیوں سے مالی لین دین کی بات کی اور اس بارے میں فون کو تو حکومت کی ایجنسیاں انٹرسیپٹ (intercept) بھی کرتی ہیں، چیک کرتی ہیں۔انہوں نے پکڑ لیا، تحقیق کے دوران یہ ثابت ہوا کہ آپ کے فون سے کال ہوئی تھی اور آپ کا باغیوں کے ساتھ رابطہ ہے۔