خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 166 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 166

خطبات مسرور جلد 14 166 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2016 آخر ان کی یہ دیوانگی بغض کی طرف نہیں گئی بلکہ محبت کی طرف گئی۔پس محبت کا دیوانہ غیر اشارے کو بھی اپنے لئے اشارہ سمجھتا ہے۔جو اشارہ اس کو نہ بھی کیا جائے اس کو بھی اپنے لئے سمجھتا ہے۔تو آپ جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو قوم خدا تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرنے والی ہو وہ صحیح اشارے کو کیوں نہیں سمجھتی کہ اس کے لئے کیا گیا ہے۔کیا ہماری جماعت کے دیوانوں کی وہ محبت جو وہ سلسلے سے رکھتے ہیں مولوی یار محمد جتنی بھی نہیں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رانوں پر آہستگی سے ہاتھ مارا اور انہوں نے سمجھا کہ مجھے بلار ہے ہیں۔اور یہاں اللہ تعالی بڑے واضح طور پر احکامات دیتا ہے اور آپ کا مسیح احکامات دیتا ہے اور اس پر توجہ نہیں دیتے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 733-734) پس ہمیں اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جائزہ لیں کہ کس حد تک اللہ تعالیٰ کے حکموں اور اس کے اشاروں کو ہم سمجھتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں اور ہر کام اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے حکموں پر چلتے ہوئے کریں۔اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے کام نہیں کرنا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ مولوی غلام علی صاحب ایک کٹر وہابی ہوا کرتے تھے۔وہابیوں کا یہ فتویٰ تھا کہ ہندوستان میں جمعہ کی نماز ہو سکتی ہے لیکن حنفیوں کے نزدیک ہندوستان میں جمعہ کی نماز جائز نہیں تھی۔اس زمانے میں عجیب عجیب ان کے مسئلے تھے کیونکہ وہ کہتے تھے کہ جمعہ پڑھنا تب جائز ہو سکتا ہے جب مسلمان سلطان ہو۔بادشاہ مسلمان ہو تب ٹھیک ہے۔جمعہ پڑھانے والا مسلمان قاضی ہو اور جہاں جمعہ پڑھا جائے وہ شہر ہو۔ہندوستان میں انگریزی حکومت کی وجہ سے چونکہ نہ مسلمان سلطان رہا تھا نہ قاضی۔اس لئے وہ جمعہ کی نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔یہ مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔ادھر چونکہ قرآن کریم میں وہ لکھا ہو ا پاتے تھے کہ جب تمہیں جمعہ کے لئے بلایا جائے تو فوراً تمام کام چھوڑتے ہوئے جمعہ کی نماز کے لئے چل پڑواس لئے ان کے دلوں کو اطمینان نہ تھا۔ایک طرف ان کا جی چاہتا تھا کہ وہ جمعہ پڑھیں اور دوسری طرف وہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی حنفی مولوی ہمارے خلاف فتویٰ نہ دے دے۔اس مشکل کی وجہ سے ان کا دستور تھا کہ جمعہ کے روز گاؤں میں پہلے جمعہ پڑھتے تھے اور پھر ظہر کی نماز ادا کر لیتے تھے اور وہ خیال کرتے تھے کہ اگر جمعہ والا مسئلہ درست ہے تب بھی ہم بچ گئے اور اگر ظہر پڑھنے والا مسئلہ صحیح ہے تب بھی ہم بچ گئے۔اس لئے وہ ظہر کا نام ظہر کی بجائے احتیاطی رکھا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ خدا نے اگر ہمارے جمعہ کی نماز کو الگ پھینک دیا تو ہم ظہر کو اٹھا کر اس کے سامنے رکھ دیں گے اور اگر اس نے ظہر کو ر ڈ کر دیا تو ہم جمعہ اس کے سامنے پیش کر دیں گے اور اگر کوئی احتیاطی" نہ پڑھتا تھا تو سمجھا جاتا تھا کہ وہ وہابی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہم مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گورداسپور گئے۔راستے میں جمعہ کا وقت آگیا۔ہم نماز پڑھنے کے لئے ایک مسجد میں