خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 165 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 165

خطبات مسرور جلد 14 165 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2016 آواز دی تو جواب دے دیا یا نہ دیا۔اللہ تعالیٰ یقیناً ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے نظر بچا کر چپکے سے نکل جاتے ہیں۔پس وہ لوگ جو اس کے حکم کی مخالفت کرنے والے ہیں وہ اس بات سے ڈریں کہ انہیں کوئی ابتلا آجائے یا درد ناک عذاب آپہنچے۔تو اسی طرح ایک دوسری جگہ آیا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال:25) کہ اے مومنو! تم اللہ اور اس کے رسول کی بات سننے کے لئے فوراً حاضر ہو جایا کرو جبکہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے پکارے۔بہر حال نبی کی آواز پر فورالبیک کہنا ایک ضروری امر ہے بلکہ ایمان کی علامتوں میں سے ایک بڑی بھاری علامت ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 408-409) اس لئے جب یہ ان بزرگوں نے کیا تو بالکل جائز تھا۔نماز اصل مقصود نہیں ہے یا کوئی اور نیکی نبی کی موجودگی میں اصل مقصود نہیں ہے بلکہ ہمیشہ ہی اصل مقصود اللہ تعالیٰ تک پہنچنا ہے اور اس کی بات ماننا ہے جس کی مثال اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ سے ہمیں ملتی ہے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے بھی ملتی ہے۔ایک اہم بات جس کی طرف حضرت مصلح موعودؓ نے توجہ دلائی تھی اور ہمیشہ سے اہم ہے، اب بھی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ مومن در حقیقت زیادہ ترغیب کا منتظر نہیں ہو تا بلکہ اس کے لئے صرف اشارہ ہی کافی ہوتا ہے اور اس اشارے کو سمجھ کر وہ ایسے جوش سے کام کرتا ہے کہ بعض لوگوں کو دیوانگی کا شبہ ہونے لگتا ہے۔اسی لئے جتنے کامل مومن دنیا میں ہوئے انہیں لوگوں نے پاگل کہا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مغفرت کرے میرے استاد ہوا کرتے تھے مولوی یار محمد صاحب ان کا نام تھا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے۔ان کے دماغ میں کچھ ایسا نقص تھا یا ان کا نقص اس رنگ کا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا محبوب اور اپنے آپ کو عاشق سمجھتے تھے۔اسی عشق کی وجہ سے وہ خیال کرنے لگے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے پسر موعود اور مصلح موعودؓ بنادیا ہے۔اس محبت کی وجہ سے جو ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تھی ان کا خیال تھا کہ وہی پسر موعود اور مصلح موعود ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ بات کرتے کرتے بعض دفعہ جوش میں اپنی رانوں کی طرف یوں ہاتھ لاتے جیسے کسی کو بلا رہے ہوں یا جس طرح بلایا جاتا ہے تو ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی رنگ میں جوش سے کچھ کلمات فرما رہے تھے کہ مولوی یار محمد صاحب کو د کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جا بیٹھے۔بعد میں کسی نے پوچھا کہ آپ نے یہ کیا کیا ہے۔تو وہ کہنے لگے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یوں اشارہ کیا تھا اور یہ اشارہ میری طرف تھا کہ تم آگے آجاؤ۔چنانچہ میں کو دکے آگے آگیا۔تو یہ دیوانگی تھی۔مگر بعض رنگ کی دیوانگی بھی اچھی ہوتی ہے۔