خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 164 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 164

خطبات مسرور جلد 14 164 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2016 میں کسی نے یہ بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ عقیدہ نہیں ہے۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے یہ خیال کیا کہ ممکن ہے آپ کے پاس یہ معاملہ پوری طرح پیش نہ کیا گیا ہو۔اس لئے کسی سے یہ کہا کہ یہ کتاب لے جاؤ۔یہ جو حضرت امام حسنؓ کے بارے میں ابوداؤد کی روایت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ حوالہ دکھا کے آؤ۔حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ کتاب لانے والا کتاب لے کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جارہا تھا مجھے بھی راستہ میں ملا۔بغل میں کتاب دبائی ہوئی تھی نہایت شوق سے جار ہا تھا۔تو میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے ؟ اس نے بتایا کہ حضرت مولوی صاحب نے یہ حوالہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دکھانے کے لئے بھیجا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ اس کا شوق جوش دیکھ کے اور ویسے بھی یہ مسئلہ ایسا تھا کہ میں بھی جواب کے شوق میں اس کی واپسی کا منتظر رہا۔وہیں کھڑا ہو گیا جہاں میں نے پوچھا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس آیا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ جاتے وقت تو وہ بہت خوش خوش گیا تھا مگر واپس آتے وقت سر جھکائے ہوئے آرہا تھا۔تو میں نے پوچھا کیا بات ہے۔اس نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ مولوی صاحب سے جا کر پوچھو کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ یہ ساری بیویاں ایک ہی وقت میں تھیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 13 صفحہ 35-36) پھر یہ مسئلہ بھی ختم ہو گیا ہے کہ چار سے زیادہ شادیاں بہر حال نہیں ہو سکتیں۔اور اس میں بھی شرائط ہیں اور تقویٰ سب سے بڑی شرط ہے۔امام کی آواز پر لبیک کہنا، اس کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔امام کی آواز کے مقابلے میں افراد کی آواز کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔تمہارا فرض ہے کہ جب بھی تمہارے کانوں میں خدا تعالیٰ کے رسول کی آواز آئے تم فوراً اس پر لبیک کہو اور اس کی تعمیل کے لئے دوڑ پڑو کہ اسی میں تمہاری ترقی کار از مضمر ہے بلکہ اگر انسان اس وقت نماز پڑھ رہا ہو تب بھی اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ نماز توڑ کر خدا تعالیٰ کے رسول کی آواز کا جواب دے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس قسم کی مثالیں بھی پائی جاتی ہیں۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ ایسا ہی کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آواز دینے پر فوراً نماز توڑ دی اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور غالباً میر مہدی حسین صاحب اور میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے بھی ایسا ہی کیا۔یہ دو آدمی تھے انہوں نے بھی مختلف وقتوں میں ایسا کیا۔بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ آیت پڑھی کہ لَا تَجْعَلُوا دُعَاء الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ اللهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِةَ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (النور:64) کہ تمہارے در میان رسول کا تمہیں بلانا اس طرح نہ بناؤ جیسے تم ایک دوسرے کو اونچی آوازوں میں بلاتے ہو یا سمجھتے ہو کہ بلایا،