خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 163
خطبات مسرور جلد 14 163 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2016 پس اسلام نے آزادی بھی قائم کی ہے اور حدود ؟ بھی قائم کی ہیں۔کھلی چھٹی نہیں دے دی۔بعض مجبوریوں کی وجہ سے اجازت ہے کہ پردے کو کم کیا جا سکتا ہے۔کم معیار کا کیا جا سکتا ہے۔لیکن ساتھ ہی بلا وجہ ناجائز طور پر اسلامی حکموں کو چھوڑنا اس سے بھی منع فرمایا ہے۔اسلام نے آزادی کے نام پر بے حیائی نہیں رکھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تفقہ فی الدین کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اسلامی مسائل کی بنیاد تفقہ پر ہے۔ان کے اندر باریک حکمتیں ہوتی ہیں اور جب تک ان کو نہ سمجھا جائے انسان دھو کہ کھا کر بعض دفعہ گمراہی کی طرف نکل جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ کسی مجلس میں بیان فرمایا کہ انسان اگر تقویٰ سے کام لے تو چاہے سو شادیاں کر لے۔یہ بات سلسلے کے اخباروں میں سے ایک میں شائع ہوئی جس پر یہ چر چاشروع ہو گیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مذہب یہی ہے کہ چار کی حد نہیں۔مرد تو بڑے خوش ہوئے ہوں گے کہ چار کی حد نہیں۔شادیاں کوئی جتنی چاہے کر لے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے اس بحث اور جھگڑے کو جو باہر ہو تا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پہنچایا اور پوچھا کہ اس سے آپ کا کیا مطلب تھا۔آپ نے فرمایا میرا مطلب یہ تھا کہ اگر ایک بیوی مر جائے یا کسی وجہ سے طلاق دی جائے تو انسان اس کی بجائے اور شادی کر سکتا ہے۔اسی طرح خواہ سوشادیاں کر لے۔اس سے آپ نے اس خیال کی تردید فرمائی جو بعض مذاہب نے پیش کیا ہے۔یہ بات جو چل رہی ہے کسی اور حوالے سے چل رہی ہے۔بعض دفعہ لوگ کہتے ہیں کہ جی فیصلہ ہو گیا۔سیاق و سباق دیکھے بغیر بات کر دیتے ہیں۔آپ نے جو اس بات کا اظہار فرمایا تھا تو اس کی وجہ یہ بنی۔اس خیال کی آپ نے تردید فرمائی جو بعض مذاہب نے پیش کیا ہے کہ عمر بھر انسان کو دوسری شادی نہیں کرنی چاہئے چاہے بیوی مر جائے یا طلاق ہو جائے۔جب ایک شادی ہو گئی تو ختم ہو گیا اور خاص طور پر جب بیوی مر جائے تو آپ نے اس خیال کی تردید فرمائی تھی۔اس حوالے سے بات ہو رہی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اب اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ قول تشریح کے بغیر رہ جاتا تو کچھ عرصے کے بعد یہی سمجھا جاتا کہ آپ کا مذہب یہی تھا کہ جتنی شادیاں چاہو کر سکتے ہو ، صرف تقویٰ کی شرط ہے۔آجکل تو مرد دوسری تیسری شادیاں بھی کرتے ہیں تو اس تقویٰ کی شرط کو بھی سامنے نہیں رکھتے۔تقویٰ کی شرط ضروری ہے۔اسی بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں مجھے یاد آیا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کا اعتقاد ایک عرصے تک یہی تھا کہ چار سے زیادہ شادیاں جائز ہیں۔ان دنوں چونکہ چھوٹی جماعت تھی اور دوست اکثر باہم ملتے تھے۔قادیان میں تھوڑے سے لوگ تھے۔ایسے مسائل پر بڑی لمبی بحثیں ہوتی رہتی تھیں۔انہی دنوں ایک زمانے میں یہ مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول نے فرمایا چار بیویوں کی حد بندی شریعت سے ثابت نہیں اور ابوداؤد کی ایک روایت بھی پیش کی جس میں لکھا تھا کہ حضرت امام حسن کے اٹھارہ یا انیس نکاح ہوئے۔اسی مجلس