خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 162
خطبات مسرور جلد 14 162 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2016 کوشش کرنی چاہئے۔اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ " بیماروں پر حق اور صداقت کا اثر بہت جلدی ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک طبیب نے پوچھا، "ڈاکٹر نے پوچھا کہ "میں دین کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا کہ آپ بیماروں کو تبلیغ کیا کریں۔یہ بہت اچھا موقع ہوتا ہے کیونکہ بیمار کا دل نرم ہوتا ہے۔" اہم اور ضروری امور۔انوار العلوم جلد 13 صفحہ 338) پس یہ سوچ اس زمانے کے ڈاکٹروں کو بھی رکھنی چاہئے اور یہی سوچ اور عمل پھر دنیا کمانے کے ساتھ دین کی خدمت کا موقع دے کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بھی بنائے گا۔پردے کا مسئلہ آجکل یہاں مغربی ممالک میں عورت کے حقوق کے نام پر یا د ہشت گردی کو ختم کرنے کے نام پر یا بلاوجہ اسلام پر اعتراض کرنے کی وجہ سے بڑے زور و شور سے اٹھایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا ہے کہ کس طرح کا پردہ کرنا چاہئے۔کن حالات میں کرنا چاہئے۔اس میں عورت کی زینت کے ظاہر ہونے کے بارے میں بھی یہ فرمایا ہے کہ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا (النور:32)۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے اور اس حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو ارشاد ہے وہ پیش کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ الَّا مَا ظَهَرَ مِنْہا کے یہ معنی ہیں کہ وہ حصہ جو آپ ہی آپ ظاہر ہو اور جسے کسی مجبوری کی وجہ سے چھپایا نہ جاسکے خواہ یہ مجبوری بناوٹ کے لحاظ سے ہو۔یعنی بناوٹ یہ نہیں کہ ظاہری بناوٹ بلکہ جسم کی بناوٹ جیسے قد ہے کہ یہ بھی ایک زینت ہے مگر اس کو چھپانا نا ممکن ہے۔اس لئے اس کو ظاہر کرنے سے شریعت نہیں روکتی۔یا بیماری کے لحاظ سے ہو کہ کوئی حصہ جسم علاج کے لئے ڈاکٹر کو دکھانا پڑے تو قرآن کریم کے مطابق وہ بھی ظاہر کیا جا سکتا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو یہاں تک فرمایا کرتے تھے کہ ہو سکتا ہے ڈاکٹر کسی عورت کے متعلق تجویز کرے کہ وہ منہ نہ ڈھانپے۔اپنے چہرے کو کور (cover) نہ کرے۔اگر ڈھانپے گی تو اس کی صحت خراب ہو جائے گی اور ادھر اُدھر چلنے پھرنے کے لئے کہے۔یعنی اگر ڈاکٹر عورت کو کہے کہ منہ نہ ڈھانپے اور پھر باہر جا کے پھرے، نہیں تو تمہاری صحت خراب ہو جائے گی تو ایسی صورت میں اگر وہ عورت منہ نگا کر کے چلتی ہے تو بھی جائز ہے۔بلکہ بعض فقہاء کے نزدیک اگر عورت حاملہ ہو اور کوئی اچھی دایہ میسر نہ ہو اور ڈاکٹر یہ کہے کہ اگر یہ کسی قابل ڈاکٹر سے اپنا بچہ نہیں جنوائے گی تو اس کی جان خطرے میں ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ کسی مرد سے بچہ جنوائے تو یہ بھی جائز ہو گا۔بلکہ اگر کوئی عورت مرد ڈاکٹر سے بچہ نہ جنوائے اور مر جائے تو خدا تعالیٰ کے حضور وہ ایسی ہی گناہگار سمجھی جائے گی جیسے اس نے خود کشی کی ہے۔پھر یہ مجبوری کام کے لحاظ سے بھی ہو سکتی ہے جیسے زمیندار گھرانوں کی عورتوں کی میں نے مثال دی ہے۔پہلے مصلح موعودؓ مثال دے چکے ہیں کہ ان کے گزارے ہی نہیں ہو سکتے اگر وہ کام نہ کریں۔جب تک کہ وہ کاروبار میں اپنے مردوں کی امداد نہ کریں۔یہ تمام چیزیں الاما ظَهَرَ مِنْهَا میں ہی شامل ہیں۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 299)