خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 161
خطبات مسرور جلد 14 161 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2016 نہیں چھوڑا۔اس وقت چونکہ زلازل کے متعلق آپ کو کثرت سے الہامات ہو رہے تھے اس لئے آپ نے یہی مناسب خیال فرمایا کہ کچھ عرصہ باغ میں رہیں۔باقی دوستوں کو بھی آپ نے وہیں رہنے کی تحریک کی اور چونکہ جلدی تھی اس لئے کچھ تو خیموں کا انتظام کیا گیا اور کچھ لوگوں نے اینٹوں پر چٹائیاں وغیرہ ڈال کر رہنے کے لئے جھونپڑیاں بنالیں اور سب کو آپ نے اپنے ساتھ رکھا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 14 صفحہ 113-114) پس جلد باز طبیعت بعض دفعہ بغیر سوچے سمجھے اعتراض کی بات کر دیتی ہے اور اس سے دوستوں کو بچنا چاہئے۔خطبہ الہامیہ کے دوران حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جس طرح دیکھا اسے بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ آپ عربی میں عید کا خطبہ پڑھیں آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے علم دیا جائے گا۔آپ نے اس سے پہلے کبھی عربی میں تقریر نہ کی تھی لیکن جب تقریر کرنے کے لئے آئے اور تقریر شروع کی تو حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مجھے خوب یاد ہے گو میں چھوٹی عمر میں ہونے کی وجہ سے عربی نہ سمجھ سکتا تھا مگر آپ کی ایسی خوبصورت اور نورانی حالت بنی ہوئی تھی کہ میں اول سے آخر تک برابر تقریر سنتا رہا حالانکہ ایک لفظ بھی نہ سمجھ سکتا تھا۔(ماخوذ از حقیقة الرؤیاء۔انوار العلوم جلد 4 صفحہ 187-188) مسجد مبارک قادیان کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے یہ واقعہ بیان فرمایا جس کا ذکر الفضل میں ایک رپورٹ میں یوں ملتا ہے کہ بعض دوستوں نے عرض کیا کہ خطبہ الہامیہ کے ساتھ حضرت مسیح موعود کا جو اشتہار شامل ہے اس سے معلوم نہیں ہو تا کہ مسجد مبارک کون سی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ سے لوگوں نے یہ سوال پوچھا۔اس پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے خطبہ الہامیہ منگوا کر وہ اشتہار پڑھا اور سمجھایا کہ اس سے مراد یہی مسجد ہے جو حضرت مسیح موعود نے بنائی ہے اور پھر حسب ذیل روایت آپ نے بیان فرمائی کہ ایک دفعہ ام المومنین بیمار ہو گئیں اور قریباً 40 روز تک بیمار رہیں۔ایک دن حضرت صاحب نے فرمایا کہ اس مسجد کے متعلق الہام ہے۔آپ نے تو اس کے مختصر الفاظ بیان کئے ہیں اصل الہام اس طرح ہے کہ مُبارِكٌ وَ مُبَارَكٌ وَ كُلُّ أَمْرِمُبَارَكِ يُجْعَلُ فِيه۔کہ آپ نے فرمایا کہ کیونکہ یہ اس مسجد کے بارے میں الہام ہے تو چلو اس میں چل کر دوائی دیتے ہیں۔حضرت اماں جان کو وہاں مسجد میں جا کر دوائی دیتے ہیں۔تو آپ نے وہاں آکر دوا پلائی اور دو گھنٹے کے اند ر ام المومنین اچھی ہو گئیں۔(ماخوذ از روزنامه الفضل 14 فروری 1921ء جلد 8 نمبر 61 صفحہ 6) ڈاکٹروں کو ایک نصیحت کہ انہیں دین کی خدمت کرنے کا حق ادا کرنا چاہئے اور اس کے لئے