خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 160 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 160

خطبات مسرور جلد 14 160 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2016 بڑے بڑے زخم، خراب زخم بھی اچھے ہو جاتے تھے۔لوگ ڈور ڈور سے اس کے پاس علاج کروانے کے لئے آتے تھے۔اس کا بیٹا اس کا نسخہ پوچھتا تو وہ جواب دیتا کہ اس کے جاننے والے دنیا میں دو نہیں ہونے چاہئیں۔پس میرے پاس ہے علم، یہیں رہے گا بیٹے کو بھی نہیں بتانا۔آخر وہ بوڑھا ہو گیا اور سخت بیمار ہوا تو اس کے بیٹے نے کہا کہ اب تو بتا دیں۔زندگی کا پتا کچھ نہیں۔وہ کہنے لگا کہ اچھا اگر تم سمجھتے ہو کہ میں مرنے لگا ہوں تو بتا دیتا ہوں۔مگر پھر کہنے لگا کہ کیا پتا میں اچھا ہی ہو جاؤں۔اس لئے پھر بتانے سے رک گیا اور چند گھنٹوں کے بعد اس کی جان نکل گئی اور اس کا بیٹا بیچارہ پوچھتا رہ گیا۔فن سے محروم رہ گیا۔اس کا تو یہ خیال تھا کہ فن حاصل کرلوں گا لیکن بہر حال اپنے باپ کی ضد کی وجہ سے جاہل کا جاہل ہی رہ گیا۔اور اس کا باپ اس کے کوئی کام نہ آسکا، نہ اس کا فن اس کے کام آسکا۔تو آپ فرماتے ہیں کہ بخل ترقی کا نہیں بلکہ ذلت ورسوائی کا موجب بنتا ہے اس لئے ایسے معاملوں میں، علم کے معاملے میں بخل نہیں کرنا چاہئے۔اس کو پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے۔آپ فرماتے ہیں بعض دفعہ یہ خاندانوں کی تباہی کا موجب ہو جاتا ہے تو ان پیشوں اور فنون کا سکھانا مضر نہیں بلکہ مفید ہے۔اس سے علم ترقی کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ فنون خصوص مر دہ فنون کو ترقی دی جائے۔(ماخوذ از روزنامه الفضل 29 اپریل1939ء جلد27 نمبر 98صفحہ 4) پس کہیں ڈاکٹر تکبر کا باعث بن رہے ہوتے ہیں اور اس تکبر کی وجہ سے دوسرے کے لئے تکلیف کا باعث بن رہے ہوتے ہیں اور کبھی جہالت جو ہے وہ علم کا خاتمہ کر دیتی ہے اور پھر وہ فائدہ جو دنیا کو پہنچ رہا ہوتا ہے اس سے دنیا محروم رہ جاتی ہے۔تو یہ غیر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملکوں میں عام چیز ہے۔وہاں جماعت احمدیہ کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ اس جہالت کو دور کریں۔انسان کی مختلف طبائع ہوتی ہیں بعض اخلاص میں بڑھے ہوئے ہوتے ہیں اور ہر بات کو شرح صدر سے مانتے ہیں۔بعض جلد باز ہوتے ہیں۔نیت بد نہ بھی ہو تب بھی اعتراض کر دیتے ہیں یا ایسے رنگ میں بات کرتے ہیں جس میں اعتراض کا رنگ ہو۔ایسے ہی لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ایک دفعہ ایسی ہی دو مختلف طبیعتوں کا اجتماع ہو گیا یعنی ایک جگہ اکٹھے ہو گئے۔4 اپریل 1905 ء کو جو خطرناک زلزلہ آیا اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو زلازل کے متعلق کثرت سے الہامات ہوئے۔بہت کثرت سے الہامات ہوئے کہ اب زلزلے آئیں گے تو آپ خدا تعالیٰ کے کلام کا ادب اور احترام کرتے ہوئے اپنے باغ میں تشریف لے گئے۔کئی بیوقوف اُس وقت بھی یہ کہہ دیا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام طاعون سے ڈر کر باغ میں چلے گئے ہیں۔اس زمانے میں طاعون بھی تھا اور زلزلے بھی آ رہے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ عجیب بات ہے کہ میں نے بعض احمدیوں کے منہ سے بھی یہ بات سنی ہے حالانکہ طاعون کے ڈر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی اپنا گھر