خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 159
خطبات مسرور جلد 14 159 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2016 سے اچھے ہیں مگر باوجود اس کے یہ معنی نہیں کہ انہیں مشورے کی ضرورت نہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قاعدہ تھا اور خود میں بھی جب 1918ء میں بیمار ہو اہوں تو میں نے بھی ایسا ہی کیا کہ طبیب اور ڈاکٹر سب جمع کرلئے۔ڈاکٹروں کی دوائی بھی کھاتا تھا اور طبیبوں کی بھی۔کیا معلوم اللہ تعالیٰ کس سے فائدہ دے دے۔اگر کوئی ڈاکٹر اپنے آپ کو خدا سمجھتا ہے تو سمجھے۔ہم تو اسے بندہ ہی سمجھتے ہیں۔اسی طرح آجکل بھی بعض ڈاکٹر ناراض ہو جاتے ہیں اور یہ غلط طریقہ ہے کہ دوسرے سے علاج کیوں (ماخوذ از خطبات محمود جلد 14 صفحہ 129) کروایا۔بعض دفعہ عام جڑی بوٹیوں کا علاج کرنے والے لوگ جو با قاعدہ طبیب بھی نہیں ان کے پاس بعض نسخے آ جاتے ہیں اور وہ علاج کرتے ہیں اور مریض کے بہترین علاج کرتے ہیں۔جہاں بعض دفعہ ڈاکٹر فیل ہو جاتے ہیں، کوئی علاج کار گر نہیں ہو تاوہاں ان کے یہ علاج یاٹونے ٹوٹکے کام آجاتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ سید احمد نور صاحب کا بلی کے ناک پر زخم تھا۔انہوں نے کئی علاج کروائے۔لاہور کے میوہسپتال بھی گئے۔ایکسرے کر اکر علاج کرایا کہ پتا لگے کیا وجہ ہے مگر زخم اور بھی خراب ہو تا گیا۔آخر وہ پشاور گئے وہاں ایک نائی سے علاج کرایا۔اس نے صرف تین روز دوائی استعمال کروائی اور زخم اچھا ہو گیا۔تو آپ فرماتے ہیں کہ اب ایسے ماہرین موجود ہیں جن کو ایسے ایسے پیشے آتے ہیں کہ اگر انہیں زندہ رکھا جائے تو اس سے آگے کئی نئے پیشے جاری ہو سکتے ہیں۔زندہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں ریسرچ کروائی جائے، ان کو توجہ دلائی جائے کہ وہ اپنے نسخے آگے جاری رکھیں۔لیکن ہوتا کیا ہے ؟ تیسری دنیا کے ملکوں میں ان کے جاننے والے چونکہ انہیں زندہ رکھنے کی کوشش نہیں کرتے اس لئے وہ ترقی نہیں کر رہے۔اگر ان کی طرف لوگوں کی توجہ ہو تو ان سے آگے کئی فنون نکل سکتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ یہی ہڈیوں کا ٹھیک کرنا ہے۔پہلوان اور نائی اسے جانتے ہیں اور اس سے پرانی دردوں اور ٹیڑھی ہڈیوں کو درست کیا جاسکتا ہے۔بعض اس میں بڑے ماہر ہوتے ہیں۔بعض تو بنے ہوئے ہیں جو صحیح ہڈیاں بھی توڑ دیتے ہیں۔لیکن بعض بڑے ماہرین ہیں۔تو اسے سیکھ کر پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ پرانے زمانے میں لوگ ان پیشوں کے اظہار میں بہت بخل سے کام لیتے تھے اور کوئی کسی کو بتا تا نہ تھا۔اس لئے وہ مٹ گئے۔بہت ساری چیزیں، باتیں جو پرانے لوگوں میں تھیں، بعض نسخے تھے کیونکہ آگے بتاتے نہیں تھے کہ کسی کو پتا نہ لگ جائے اس لئے ختم ہو گئے۔یورپ والے ایسا نہیں کرتے بلکہ اپنے فن کو عام کر دیتے ہیں اور اس سے وہ روپیہ بھی زیادہ کما سکتے ہیں۔بعض دوائیاں بھی پیٹینٹ ہوتی ہیں کچھ عرصہ کے بعد عام ہو جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک نائی تھا جسے ایسی مرہم کا علم تھا جس سے