خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 158 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 158

خطبات مسرور جلد 14 158 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2016 تعلیمی ہو اور اس میں کوئی حصہ تماشا وغیرہ کا نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔کوئی ڈرامے بازی نہ ہو۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میری یہی رائے ہے کہ تماشا تبلیغی بھی ناجائز ہے۔غلط طریق ہے۔(ماخوذ ازرپورٹ مجلس مشاورت سال 1939ء صفحہ 86) پس اس بات سے ان لوگوں پر واضح ہو جانا چاہئے جو یہ کہتے ہیں کہ ایم ٹی اے پر اگر پروگراموں میں بعض دفعہ میوزک آجائے تو کوئی حرج نہیں یا وائس آف اسلام ریڈیو شروع ہوا ہے اس پر بھی آجائے تو کوئی حرج نہیں۔ان باتوں اور ان بدعات کو ختم کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے تھے۔ہمیں اپنی سوچوں کو اس طرف ڈھالنا ہو گا جو آپ علیہ السلام کا مقصد تھا۔نئی ایجادات سے فائدہ اٹھانا حرام نہیں، نہ یہ بدعات ہیں۔لیکن ان کا غلط استعمال بدعت بنا دیتا ہے۔بعض لوگ یہ تجویزیں بھی دیتے ہیں کہ ڈرامے کے رنگ میں تبلیغی پروگرام یا تربیتی پروگرام بنائے جائیں تو ان کا اثر ہو گا۔انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر آپ ایک غلط بات میں داخل ہوں گے یا کوئی بھی غلط بات اپنے پروگراموں میں داخل کریں گے تو کچھ عرصے بعد سو قسم کی بدعات خود بخود داخل ہو جائیں گی۔غیروں کے نزدیک تو شاید قرآن کریم بھی میوزک سے پڑھنا جائز ہے لیکن ایک احمدی نے بدعات کے خلاف جہاد کرنا ہے اس لئے ہمیں ان باتوں سے بچنا چاہئے اور بچنے کی بہت کوشش کرنی چاہئے۔ایک غیر احمدی نے ایک اخبار میں مضمون لکھا جو ایک لطیفہ تو ہے۔اس سے ایک مولوی صاحب کی جہالت بھی ظاہر ہوتی ہے۔لیکن ساتھ ہی ان کی سوچوں کا بھی پتا لگتا ہے کہ یہ اس چیز کو جائز سمجھتے ہیں۔یہ لکھنے والا لکھتا ہے کہ ایک جگہ ایک عرب گلوکارہ عربی میں میوزک کے ساتھ گانا گار ہی تھی۔مولوی صاحب کو بھی وہاں لے گئے۔وہ بڑے جھوم جھوم کر وہ سن رہے تھے۔تو انہوں نے پوچھا کہ مولوی صاحب آپ اس عربی پہ اتنا جھوم کیوں رہے ہیں۔کہتے ہیں کہ سبحان اللہ اور ساتھ ساتھ سبحان اللہ اور ماشاء اللہ اور اللہ اکبر بھی پڑھتے جائیں۔انہوں نے کہا جھوم کیوں رہے ہیں ؟ کہتا ہے دیکھو۔دیکھ نہیں رہے تم کتنی خوبصورت آواز میں قرآن کریم پڑھ رہی ہے۔اس گانے کو انہوں نے کیونکہ وہ عربی میں تھا قرآن کریم بنادیا۔تو جب یہ بدعات پھیلتی ہیں تو سوچیں بھی اسی طرح تبدیل ہو جاتی ہیں۔ڈاکٹروں کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر خاص طور پر ہندوستان میں مریض کا علاج کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ اپنے مریض کا ہم ہی علاج کر سکتے ہیں اور کسی اور کو دکھانے کی ضرورت نہیں۔اور کسی مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔اس بات کو مزید بیان فرماتے ہیں کہ ہندوستانی ڈاکٹروں میں سے نانوے فیصد ایسے ہیں جو دوسرے سے مشورے کو بھی اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں اس میں شک نہیں کہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب جو آپ کے معالج تھے تجربے میں باقی جتنے سب اسسٹنٹ سر جن میں نے دیکھے ہیں ان