خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 157
خطبات مسرور جلد 14 157 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2016 حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود اپنی تصویر کھنچوائی لیکن جب ایک کارڈ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔پوسٹ کارڈ تھا جس پر آپ کی تصویر تھی تو آپ نے فرمایا کہ اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور جماعت کو ہدایت فرمائی کہ کوئی شخص ایسے کارڈ نہ خریدے۔نتیجہ یہ ہوا کہ آئندہ کسی نے ایسا کرنے کی جرات نہ کی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 14 صفحه 214) لیکن آجکل پھر بعض جگہوں پر بعض ٹوئیٹس (Tweets) میں، واٹس ایپ (WhatsApp) پر میں نے دیکھا ہے کہ لوگ کہیں سے یہ پرانے کارڈ نکال کر یا پھر انہوں نے اپنے بزرگوں سے لئے یا بعضوں نے پرانی کتابوں کی دوکانوں سے خریدے۔اور پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔تو یہ غلط طریق ہے اس کو بند کرنا چاہئے۔تصویر آپ نے اس لئے کھنچوائی تھی کہ دور دراز کے لوگ اور خاص طور پر یورپین لوگ جو چہرہ شناس ہوتے ہیں وہ آپ کی تصویر دیکھ کر سچائی کی تلاش کریں گے، اس کی جستجو کریں گے لیکن جب آپ نے دیکھا کہ لوگ کارڈ پر تصویر شائع کر کے یہ کاروبار کا ذریعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں یا کہیں بنانہ لیں اور جب آپ نے محسوس کیا کہ اس سے بدعت نہ پھیلنی شروع ہو جائے، یہ بدعت پھیلنے کا ذریعہ نہ بن جائے تو آپ نے سختی سے اس کو روک دیا بلکہ بعض جگہ آپ نے فرمایا کہ ان کو ضائع کروا دیا جائے۔پس وہ بعض لوگ جو تصویروں کا کاروبار کرتے ہیں، جنہوں نے تصویروں کو کار و بار کا ذریعہ بنایا ہوا ہے اور بے انتہا قیمتیں اس کی وصول کرتے ہیں ان کو توجہ کرنی چاہئے۔پھر بعض ایسے بھی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر میں بعض رنگ بھر دیتے ہیں حالانکہ کوئی coloured تصویر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نہیں ہے۔یہ بھی بالکل غلط چیز ہے اس سے بھی احتیاط کرنی چاہئے۔اسی طرح خلفاء کی تصویروں کے غلط استعمال ہیں ان سے بھی بچنا چاہئے۔ایک دفعہ سینما اور بائی سکوپ کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ایک شوری میں بحث چل گئی تو اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ کہنا کہ سینما یا بائی سکوپ یا فونوگراف اپنی ذات میں بُرا ہے، صحیح نہیں۔فونو گراف خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سنا ہے بلکہ اس کے لئے آپ نے خود ایک نظم لکھی اور پڑھوائی اور پھر یہاں کے ہندوؤں کو بلوا کر وہ نظم سنائی۔یہ وہ نظم ہے جس کا ایک شعر یہ ہے کہ آواز آرہی ہے یہ فونوگراف سے ڈھونڈو خدا کو دل سے ، نہ لاف و گزاف سے پس سینما اپنی ذات میں برا نہیں۔لوگ بڑا سوال کرتے ہیں کہ وہاں جانا گناہ تو نہیں ہے۔یہ اپنی ذات میں برا نہیں ہے بلکہ اس زمانے میں اس کی جو صورتیں ہیں وہ مخرب اخلاق ہیں۔اگر کوئی فلم کلی طور پر تبلیغی یا