خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 156
خطبات مسرور جلد 14 156 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2016۔مضر نہ ہو مگر وہ مثلاً بعض فصلوں یا انسانوں میں بیماری پیدا کرنے والے کیڑوں کو کھاتا ہو۔اسی لئے بعض قسم کے پرندے ہیں گو وہ حلال ہیں لیکن حکومتوں کی طرف سے بھی ان کو مارنے کی پابندی ہوتی ہے۔پاکستان میں بھی پابندی ہوتی ہے۔کیونکہ وہ فصلوں کے کیڑے کھا رہے ہوتے ہیں۔تو فرمایا کہ کیڑے کھانے والے ہیں۔گوشت کے لحاظ سے اس کا گوشت حلال بھی ہو گا اور طیب بھی مگر پھر بھی بنی نوع انسان کا عام فائدہ دیکھتے ہوئے اس کا گوشت طیب نہ رہے گا۔پس بیشک حلال بھی ہے طیب بھی ہے لیکن پھر دیکھنے والی چیز یہ ہو گی کہ زیادہ فائدہ کس کا ہے۔اپنے فائدے پر بنی نوع کے فائدے کو ختم کرنا ہو گا یا بنی نوع کے فائدے کو اپنے فائدے پر ترجیح دینی ہو گی کیونکہ ان کے کھانے کی وجہ سے انسان بعض اور فوائد سے محروم رہ جائیں گے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مجھے بچپن ہی میں یہ سبق سکھایا گیا تھا۔میں بچپن میں ایک دفعہ ایک طوطا شکار کر کے لایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے دیکھ کر کہا کہ محمود! اس کا گوشت حرام تو نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہر جانور کھانے کے لئے ہی پیدا نہیں کیا۔بعض خوبصورت جانور دیکھنے کے لئے ہیں کہ انہیں دیکھ کر آنکھیں راحت پائیں۔بعض جانوروں کو عمدہ آواز دی ہے کہ ان کی آواز سن کر کان لذت حاصل کریں۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہر حس کے لئے نعمتیں پیدا کی ہیں وہ سب کی سب چھین کر زبان ہی کو نہ دے دینی چاہئیں۔یعنی اپنی زبان کے مزے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر جانور کو مارا جائے اور کھایا جائے اس کے دوسرے جو فوائد ہیں وہ دیکھنا چاہئیں۔صرف اپنے کھانے کا مزا نہیں لینا چاہئے۔تو پھر فرمایا کہ دیکھو یہ طوطا کیسا خو بصورت جانور ہے۔حضرت مسیح موعود نے حضرت مصلح موعود کو فرمایا کہ دیکھو یہ طوطا کیسا خوبصورت جانور ہے۔درخت پر بیٹھا ہوا دیکھنے والوں کو کیسا بھلا معلوم ہو تاہو گا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 4 صفحه 263) پس یہ خوبصورت اند از جو تربیت کا ہے نہ صرف دل پر اثر کرنے والا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو بھی ذہن میں بٹھانے والا ہے کہ حلال اور طبیب تو کھاؤ لیکن اس میں بھی احتیاط ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے حلال کا بھی حکم دیا، طیب کا بھی حکم دیا لیکن طیب کی تعریف بعض جگہ بدل بھی جاتی ہے۔پس جو جانور یا پرندے دوسرے مفید کاموں میں استعمال ہو رہے ہوں یا دوسری جگہ فائدہ پہنچارہے ہوں ان میں سے بعض حلال ہونے کے باوجو د طیب نہیں رہتے کیونکہ ان کا فائدہ ان کے گوشت کھانے سے دوسری جگہ پر بہر حال زیادہ ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیان کردہ بعض اور واقعات بھی پیش کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا سے بدعات کو دور کرنے اور اسلام کی خوبصورت تعلیم دکھانے آئے تھے۔پس جب آپ کا یہ مشن تھا تو کس طرح یہ ممکن ہے کہ آپ کی اپنی ذات سے کسی قسم کی بدعت کے پھیلنے کا احتمال ہو یا بدعت پھیلانے والے ہوں (نعوذ باللہ )۔