خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 153
خطبات مسرور جلد 14 153 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2016 سے ہم بچیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے دردناک عذاب سے بچیں۔پھر اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ مخفی گناہوں سے بچو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : "جب کوئی مصائب میں گرفتار ہوتا ہے تو قصور آخر بندے کا ہی ہوتا ہے۔"مصیبتوں میں گرفتار ہونے کے بعد یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصیبت آگئی۔نہیں۔قصور بندے کا ہوتا ہے۔" خدا تعالیٰ کا تو قصور نہیں۔بعض لوگ بظاہر بہت نیک معلوم ہوتے ہیں اور انسان تعجب کرتا ہے کہ اس پر کوئی تکلیف کیوں وارد ہوئی یا کسی نیکی کے حصول سے یہ کیوں محروم رہا لیکن دراصل اس کے مخفی گناہ ہوتے ہیں جنہوں نے اس کی حالت یہاں تک پہنچائی ہوئی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ چونکہ بہت معاف کرتا ہے اور در گذر فرماتا ہے اس واسطے انسان کے مخفی گناہوں کا کسی کو پتا نہیں لگتا۔مگر مخفی گناہ دراصل ظاہر کے گناہوں سے بدتر ہوتے ہیں۔گناہوں کا حال بھی بیماریوں کی طرح ہے۔بعض موٹی بیماریاں ہیں " یعنی ظاہر کی بیماری " ہر ایک شخص دیکھ لیتا ہے کہ فلاں بیمار ہے۔مگر بعض ایسی مخفی بیماریاں ہیں کہ بسا اوقات مریض کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ مجھے کوئی خطرہ دامن گیر ہو رہا ہے۔ایسا ہی تپ دق ہے کہ ابتداء میں اس کا پتا بعض دفعہ طبیب کو بھی نہیں لگ سکتا یہاں تک کہ بیماری خوفناک صورت اختیار کرتی ہے۔" بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ آخری سٹیج پر جا کر پتا چلتا ہے۔بعض دفعہ کینسر کے مریض ہیں۔اچھا بھلا صحت مند انسان بظاہر لگ رہا ہو تا ہے اور ایک دم پتا لگتا ہے کہ کینسر ہے اور ایسی سٹیج پر چلا گیا ہے جہاں اب کوئی علاج نہیں۔پھیل چکا ہے اور مہینے کے اندر اندر انسان ختم ہو جاتا ہے۔پس فرمایا کہ جس طرح بیماری کا پتا نہیں لگتا ایسا ہی انسان کے اندرونی گناہ ہیں جو رفتہ رفتہ اسے ہلاکت تک پہنچا دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے رحم کرے۔قرآن شریف میں آیا ہے قد افلح منْ زَثْهَا (الشمس: 10) کہ اس نے نجات پائی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا۔لیکن تزکیہ نفس بھی ایک موت ہے۔جب تک کہ گل اخلاق رذیلہ کو ترک نہ کیا جاوے تزکیہ نفس کہاں حاصل ہو تا ہے۔" جتنے بیہودہ گندے گھٹیا اخلاق ہیں جب تک ان کو ترک نہیں کرو گے جن پہ شیطان چلانا چاہتا ہے۔فحشاء اور منکر پر چلانا چلاتا ہے۔منکر کا مطلب ہی یہی ہے کہ ہر ایسی چیز جو اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہے وہ منکر ہے۔جب تک گل اخلاق رذیلہ کو ترک نہ کیا جاوے تزکیہ نفس کہاں حاصل ہو سکتا ہے۔"ہر ایک شخص میں کسی نہ کسی شر کا مادہ ہو تا ہے وہ اس کا شیطان ہو تا ہے جب تک کہ اس کو قتل نہ کرے کام نہیں بن سکتا۔" ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 280-281) پس جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ ہمیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی پناہ کی ضرورت ہے اور اپنے جائزے لیتے رہنے کی ضرورت ہے۔شیطان کو مارنے کے لئے کیا اور کس طرح ہمیں قدم اٹھانا چاہئے اس بارے میں ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " پیغمبر الوہیت کے مظہر اور خدا نما ہوتے ہیں۔پھر سچا مسلمان اور