خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 152
خطبات مسرور جلد 14 152 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2016 شیطان نے یہ بات ڈال دی تھی۔اور وہ بہشت جس میں حضرت آدمؑ رہتے تھے وہ بھی زمین پر ہی تھا " کوئی فضا میں نہیں تھا۔"کسی بدنے ان کے دل میں وسوسہ ڈال دیا۔قرآن شریف کی پہلی ہی سورت میں جو اللہ تعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے کہ مغضوب علیہم اور ضالین لوگوں میں سے نہ بننا۔یعنی اے مسلمانو ! تم یہود اور نصاریٰ کے خصائل کو اختیار نہ کرنا۔اس میں سے بھی ایک پیشگوئی نکلتی ہے کہ بعض مسلمان ایسا کریں گے۔یعنی ایک زمانہ آوے گا کہ ان میں سے بعض یہود اور نصاریٰ کے خصائل اختیار کریں گے کیونکہ حکم ہمیشہ ایسے امر کے متعلق دیا جاتا ہے جس کی خلاف ورزی کرنے والے بعض لوگ ہوتے ہیں۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 244-245) پھر ایک موقع پر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ دین کو ہر حال میں دنیا پر مقدم کرنا چاہئے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "دیکھو دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جو اسلام قبول کر کے دنیا کے کاروبار اور تجارتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔شیطان ان کے سر پر سوار ہو جاتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے۔نہیں۔صحابہ تجارتیں بھی کرتے تھے مگر وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے۔انہوں نے اسلام قبول کیا تو اسلام کے متعلق سچا علم جو یقین سے ان کے دلوں کو لبریز کر دے انہوں نے حاصل کیا۔یہی وجہ تھی کہ وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگمگائے۔کوئی امر ان کو سچائی کے اظہار سے نہیں روک سکا۔میرا مطلب اس سے صرف یہ ہے کہ جو بالکل دنیا ہی کے بندے اور غلام ہو جاتے ہیں گویا دنیا کے پرستار ہو جاتے ہیں۔ایسے لوگوں پر شیطان اپنا غلبہ اور قابو پالیتا ہے۔دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو دین کی ترقی کی فکر میں ہو جاتے ہیں۔یہ وہ گروہ ہوتا ہے جو حزب اللہ کہلاتا ہے اور جو شیطان اور اس کے لشکر پر فتح پاتا ہے۔مال چونکہ تجارت سے بڑھتا ہے اس لئے خدا تعالے نے بھی طلب دین اور ترقی دین کی خواہش کو ایک تجارت ہی قرار دیا ہے۔" یعنی دین کی طلب جو ہے اور اس میں ترقی یہ بھی ایک تجارت ہے۔مال جو عام دنیاوی مال ہے وہ تو دنیا میں رہ جاتا ہے لیکن یہ مال، یہ تجارت آئندہ زندگی میں کام آنے والی ہے۔چنانچہ فرمایا ہے هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (الصف:11) کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کی خبر دوں جو تم کو درد ناک عذاب سے بچالے گی۔فرمایا کہ "سب سے عمدہ تجارت دین کی ہے جو درد ناک عذاب سے نجات دیتی ہے۔" اپنی جماعت کو فرمایا کہ " پس میں بھی خدا تعالیٰ کے ان ہی الفاظ میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ أَلِيْمٍ (الصف: 11)۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 193-194) پس ہمیں ایسی تجارت کرنی چاہئے، ان راستوں پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے جن کی طرف زمانے کے امام اور اللہ تعالیٰ کے فرستادے اور مسیح موعود اور مہدی معہود ہمیں بلا رہے ہیں تا کہ شیطان کے قدموں پر چلنے