خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 150
خطبات مسرور جلد 14 150 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2016 مایوس ہو جاتا ہے اور الگ ہوتا ہے اور اپنی بڑائی میں ناکام و نامراد ہو کر اسے اپنا بوریا بستر باندھنا پڑتا ہے۔" پھر ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 401-402) بیچارہ وہاں سے چلا جاتا ہے۔پس اصل چیز یہی ہے کہ خدا کا خوف انسان کے دل میں رہے۔خدا کا خوف ہو گا تو پھر بہت ساری برائیوں سے انسان بچتا ہے۔ایک چور بھی چوری کرتا ہے۔اگر اس کو یہ پتالگ جائے کہ اس کو کوئی بچہ بھی دیکھ رہا ہے تو اس بچہ کا بھی اسے خوف ہو تا ہے۔پس جب تک یہ ہمارے دلوں میں نہیں ہو گا کہ ہم کوئی بھی عمل کرتے ہوئے یا ہر وقت ذہن میں یہ رکھیں کہ خدا ہمارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے تو اس وقت تک انسان گناہوں سے نہیں بچ سکتا۔بعض دفعہ شیطان نیکیوں کے خیالات ڈال کر بھی اپنے پیچھے چلاتا ہے۔ایک مرتبہ ایک مجلس میں الہامات اور حدیث النفس میں امتیاز کے بارے میں ذکر تھا۔الہامات کے متعلق یہ ذکر تھا کہ اس میں بہت مشکلات پڑتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ " بعض لوگ حدیث النفس اور شیطان کے القاء کو الہام الہی سے تمیز نہیں کر سکتے۔نفس کی باتیں ہوتی ہیں۔شیطان کا القاء ہوتا ہے۔اس کو سمجھتے ہیں کہ الہام الہی ہے " اور دھو کہ کھا جاتے ہیں۔خدا کی طرف سے جو بات آتی ہے وہ پُر شوکت اور لذیذ ہوتی ہے۔دل پر ایک ٹھو کر مارنے والی ہوتی ہے۔وہ خدا کی انگلیوں سے نکلی ہوئی ہوتی ہے۔اس کا ہم وزن کوئی نہیں۔وہ فولاد کی طرح گرنے والی ہوتی ہے۔جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا(المزمل:6)۔یعنی یقینا ہم تجھ پر ایک کلام اتاریں گے جو بہت بھاری ہے۔ثقیل کے یہی معنی ہیں۔مگر شیطان اور نفس کا القاء ایسا نہیں ہوتا۔حدیث النفس اور شیطان گویا ایک ہی ہیں۔نفس کی باتیں ہیں۔اور شیطان کے القاء ہیں۔یہ ایک ہی چیز ہے۔انسان کے ساتھ دو قو تیں ہمیشہ لگی ہوئی ہیں ایک فرشتے اور سرے شیطان۔گویا اس کی ٹانگوں میں دور تے پڑے ہوئے ہیں۔فرشتہ نیکی میں ترغیب اور مدد دیتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے آیدَهُم بِرُوحِ مِنْهُ (المجادلة: 23) یعنی اپنا کلام بھیج کر ان کی مدد کی " اور شیطان بدی کی ترغیب دیتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہی یوسوس۔ان دونوں کا انکار نہیں ہو سکتا۔ظلمت اور نور ہر دو ساتھ لگے ہوئے ہیں۔عدم علم سے عدم شئے ثابت نہیں ہو سکتا۔" یعنی ان میں یہ نہیں ہے کہ اگر کسی بات کا علم نہیں تو وہ چیز ہی موجود نہیں ہے۔فرمایا کہ " ماسوائے اس عالم کے اور ہزاروں عجائبات ہیں۔" یہ دنیا جو اللہ تعالیٰ کی یہ کائنات ہے، ایک عجوبہ ہے، اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے ہزاروں عجائبات ہیں۔فرمایا کہ " قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاس میں شیطان کے ان وساوس کا ذکر ہے جو کہ وہ لوگوں کے درمیان ان دنوں ڈال رہا ہے۔" خاص طور پہ یہ دن جو ہیں، یہ زمانہ جو ہے جس کو جدید زمانہ کہا جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کو