خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 149
خطبات مسرور جلد 14 149 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2016 جانے کی امید ہے۔" تکبر نہ ہو، گناہوں کا اقرار ہو، انسان تو بہ کرے۔اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہے تو بخشا جاتا ہے اور یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ اللہ تعالی بخش دے گا۔لیکن شیطان نے تکبر کیا اور وہ ملعون ہوا۔جو چیز کہ انسان میں نہیں، " جس کی انسان میں طاقت ہی نہیں۔آپ فرماتے ہیں۔" متکبر آدمی خواہ مخواہ اپنے لئے اس چیز کے دعوے کے واسطے تیار ہو جاتا ہے۔" اتنی طاقت ہی نہیں تمہیں کہ تم تکبر کرو۔کہاں تک جاسکتے ہو۔کتنے اونچے ہو سکتے ہو۔جب یہ طاقت ہی اتنی نہیں کہ ہر کچھ حاصل کرو تو پھر تکبر کیسا۔فرمایا کہ متکبر آدمی خواہ مخواہ اپنے لئے اس چیز کے دعوے کے واسطے تیار ہو جاتا ہے جو اس کے پاس ہے ہی نہیں۔" انبیاء میں بہت سے ہنر ہوتے ہیں۔ان میں سے ایک ہنر سلب خودی کا ہوتا ہے " کہ اپنی خودی کو ختم کر لیتے ہیں۔" ان میں خودی نہیں رہتی۔وہ اپنے نفس پر ایک موت وارد کر لیتے ہیں۔کبریائی خدا کے واسطے ہے۔جو لوگ تکبر نہیں کرتے اور انکساری سے کام لیتے ہیں وہ ضائع نہیں ہوتے۔" (ملفوظات جلد 9 صفحہ 281) پس تکبر سے بچو۔یہ وہ خصوصیت ہے جو ایک مومن کو اختیار کرنی چاہئے ورنہ وہ شیطان کے قدموں پر چلنے والا ہے۔تکبر کو بعض دفعہ انسان محسوس نہیں کرتا۔اس لئے بڑی باریکی سے اس بارے میں ہمیں اپنے جائزے لینے چاہئیں۔شیطان کس کس طرح انسان کو اپنے قابو میں کرنے کے حیلے کرتا ہے ؟ اس بارے میں ایک جگہ بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ گناہ والا کوئی کام انسان نہ کرے۔فرمایا کہ " اگر انسان کے افعال سے گناہ دُور ہو جاوے " یعنی کوئی کام ایسانہ کرے جو گناہ والا ہے کوئی اس کا فعل ایسانہ ہو جس کو کہا جائے کہ یہ گناہ ہے " تو شیطان چاہتا ہے۔" کیا چاہتا ہے شیطان " کہ آنکھ ، کان، ناک تک ہی رہے۔" اگر ظاہری طور پر کوئی عمل گناہ کرنے والا نہ ہو تب بھی شیطان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ انسان کی آنکھ میں بیٹھا رہے، کان میں بیٹھا رہے، ناک میں بیٹھا ر ہے۔فرمایا کہ " اور جب وہاں بھی اسے قابو نہیں ملتا تو پھر وہ یہاں تک کوشش کرتا ہے کہ اور نہیں تو دل ہی میں گناہ بیٹھا رہے۔" ظاہری گناہ بعض لوگ نہیں کرتے۔بڑے گناہ نہیں کرتے یا چھوٹے گناہ بھی نہیں کرتے۔بعضوں کے حالات میں موقع ہی نہیں ملتا یا ایسی وجہ ہی نہیں بنتی کہ گناہ کریں یا کسی خوف سے نہیں کرتے۔ظاہری طور پر عملاً کوئی گناہ نہیں لیکن شیطان پھر بھی یہ کوشش کرتارہتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق نہیں ہے تو کسی نہ کسی ذریعہ سے اس کے اندر گناہ کا بیچ رکھے اور اس کے دل میں بیٹھ جائے۔فرمایا کہ "گو یا شیطان اپنی لڑائی کو اختتام تک پہنچتا ہے۔مگر جس دل میں خدا کا خوف ہے وہاں شیطان کی حکومت نہیں چل سکتی۔" اگر خدا کا خوف ہو تو پھر دل میں سوال ہی نہیں پیدا ہو تا کہ گناہ کا بیج بھی شیطان رکھ سکے۔فرمایا کہ " شیطان آخر اس سے