خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 148
خطبات مسرور جلد 14 148 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2016 ہے۔انسان ان دونوں تجاذب میں پڑا ہوا ہے"۔یعنی دونوں قسم کی جو کششیں ہیں، کھینچنے والی چیزیں ہیں ان دونوں میں پڑا ہوا ہے۔" پھر جس کی فطرت نیک ہے اور سعادت کا مادہ اس میں رکھا ہوا ہے وہ شیطان کی ہزاروں دعوتوں اور جذبات کے ہوتے ہوئے بھی اس فطرت رشید سعادت اور سلامت روی کے مادہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑتا ہے۔" یعنی جس طرح مرضی بلائے پھر۔جس میں اللہ تعالیٰ نے سعادت کا مادہ رکھا ہوا ہے وہ اپنی سعادت کی فطرت سے اور اس کی برکت سے پھر وہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا بھی ہے جب انسان ایسی فطرت رکھنے والا ہو تو اللہ تعالیٰ پھر اسے اتنی توفیق دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑتا ہے بجائے شیطان کی طرف دوڑنے کے۔" اور خداہی میں اپنی راحت تسلی اور اطمینان کو پاتا ہے۔" پھر آپ نے فرمایا کہ: " ہر چیز کے لئے نشان ضرور ہوتے ہیں جب تک اس میں وہ نشان نہ پائے جاویں وہ معتبر نہیں ہو سکتی۔دیکھو دواؤں کی طبیب شناخت کر لیتا ہے۔بنفشہ ، خیار شنبر تربد میں اگر وہ صفات نہ پائے جائیں " یہ تمام ایسے پھل ہیں یا بوٹیاں ہیں جن سے دوائیں بنتی ہیں۔فرمایا کہ اگر وہ صفات ان میں نہ پائی جائیں " جو ایک بڑے تجربے کے بعد ان میں متحقق ہوئے ہیں " ثابت ہوئے ہیں کہ یہ صفات ان میں پائے جاتے ہیں کہ ان سے بعض بیماریوں کو شفا ملتی ہے۔اگر پتا لگ جائے کہ یہ خصوصیات نہیں" تو طبیب ان کو ردی کی طرح پھینک دیتا ہے۔اسی طرح پر ایمان کے نشانات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کا بار بار اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔یہ سچی بات ہے کہ جب ایمان انسان کے اندر داخل ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی عظمت یعنی جلال، تقدس، کبریائی، قدرت اور سب سے بڑھ کر لا إِلهَ إِلَّا الله کا حقیقی مفہوم داخل ہو جاتا ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے اندر سکونت اختیار کرتا ہے اور شیطانی زندگی پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور گناہ کی فطرت مر جاتی ہے۔" یہ فطرت کی وہ سعادت ہے کہ اگر صحیح ایمان ہے تو پھر گناہ کی فطرت مر جاتی ہے۔" اس وقت ایک نئی زندگی شروع ہوتی ہے اور وہ روحانی زندگی ہوتی ہے یا یہ کہو کہ آسمانی پیدائش کا پہلا دن وہ ہوتا ہے جب شیطانی زندگی پر موت وارد ہوتی ہے۔اور روحانی زندگی کا تولد ہوتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 169) تو یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان پھر خد اتعالیٰ کا ہوتا ہے۔پھر تکبر اور شیطان کے تعلق کو بیان فرماتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں کہ : "سب سے اول آدم نے بھی گناہ کیا تھا۔"مذہب کی تاریخ میں آدم کے گناہ کا ذکر ملتا ہے" اور شیطان نے بھی " کیا تھا۔گناہ دو تھے۔ایک آدم نے کیا۔ایک شیطان نے۔مگر آدم میں تکبر نہ تھا اس لئے خدا تعالیٰ کے حضور اپنے گناہ کا اقرار کیا اور اس کا گناہ بخشا گیا۔اسی سے انسان کے واسطے تو بہ کے ساتھ گناہوں کے بخشا