خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 147

خطبات مسرور جلد 14 147 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2016 در میان ہے اور وہ نیکی کی کشش کی اطاعت کرتا ہے اس کو اس عمل کا ثواب مل جاتا ہے۔" فرمایا کہ " بے شک انسان کے دل میں دو قسم کے القاء ہوتے ہیں۔نیکی کا القاء اور بدی کا القاء۔اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں القاء انسان کی پیدائش کا جزو نہیں ہو سکتے۔یعنی پیدائش کے وقت یہ ان کا حصہ نہیں تھے " کیونکہ وہ باہم متضاد ہیں " آپس میں اختلاف رکھتے ہیں۔بدی اور نیکی کا آپس میں اختلاف ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ بچپن سے ہی بچے کی فطرت میں نیکی اور بدی موجود ہے فرمایا کہ یہ باہم متضاد ہیں" اور نیز انسان ان پر اختیار نہیں رکھتا۔اس لئے ثابت ہو تا ہے کہ یہ دونوں القاء باہر سے آتے ہیں نیکی کا اثر بھی، بدی کا اثر بھی باہر سے انسان لیتا ہے۔بچہ بھی جو آہستہ آہستہ نیکیوں میں بڑھتا ہے یا برائیوں میں بڑھتا ہے تو اس کا اثر باہر سے ہورہا ہو تا ہے فرمایا " اور انسان کی تکمیل ان پر موقوف ہے۔اور عجیب بات یہ ہے کہ ان دونوں قسم کے وجود یعنی فرشتہ اور شیطان کو ہندوؤں کی کتابیں بھی مانتی ہیں اور گبر بھی اس کے قائل ہیں " یعنی وہ لوگ جو آتش پرست ہیں وہ لوگ بھی ان کے قائل ہیں بلکہ جس قدر خدا کی طرف سے دنیا میں کتابیں آئی ہیں سب میں ان دونوں وجو دوں کا اقرار ہے۔پھر اعتراض کرنا محض جہالت اور تعصب ہے۔اور جواب میں اس قدر لکھنا بھی ضروری ہے کہ جو شخص بدی اور شرارت سے باز نہیں آتاوہ خود شیطان بن جاتا ہے جیسا کہ ایک جگہ خدا نے فرمایا ہے کہ انسان بھی شیطان بن جایا کرتے ہیں۔اور یہ کہ خدا ان کو کیوں سزا نہیں دیتا " اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب بن گیا تو پھر ایسے لوگوں کو سزا کیوں نہیں دیتا " اس کا جواب یہی ہے کہ شیطان کو سزا دینے کے لئے قرآن شریف میں وعدہ کا دن مقر رہے۔پس اس وعدہ کے دن کے منتظر رہنا چاہئے۔" اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں سزا دوں گا، ضرور دوں گا۔کب؟ اس دنیا میں یا اگلے جہان میں جو بھی دن مقر ر ہے اس دن اس کو سزا مل جائے گی "کئی شیطان خدا کے ہاتھ سے سز اپاچکے اور کئی پائیں گے۔" (چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 293-294) پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ کون کون سی چیزیں ہیں جن کی طرف شیطان بلاتا ہے۔کون سے انسان شیطان کے قدموں پر چلنے والے ہیں اور کون سی چیزیں ہیں جن کو حاصل کر کے انسان شیطان کے قدموں پر چلنے سے بچتا ہے۔اس بارے میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " شیطان، جھوٹ ، ظلم، جذبات، خون، طول آمل، ریا اور تکبر کی طرف بلاتا ہے اور دعوت کرتا ہے۔" تکبر کی طرف بلاتا ہے اور دعوت کرتا ہے یعنی کہ بڑے چاؤ سے بڑی محبت سے بلاتا ہے۔تمہیں دعوت دیتا ہے کہ آوان برائیوں کی طرف۔" اس کے بالمقابل اخلاق فاضلہ صبر ، محویت، فنافی اللہ ، اخلاص، ایمان، فلاح یہ اللہ تعالیٰ کی دعوتیں ہیں۔" ایک طرف شیطان دعوت دے رہا ہے۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ ان نیکیوں کی دعوت دے رہا