خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 146 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 146

خطبات مسرور جلد 14 146 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2016 چیزیں موجود ہیں۔ایک جاذب خیر ہے جو نیکی کی طرف اس کو کھینچتا ہے۔دوسرا جاذب شر ہے جو بدی کی طرف کھینچتا ہے۔جیسا کہ یہ امر مشہور و محسوس ہے کہ بسا اوقات انسان کے دل میں بدی کے خیالات پڑتے ہیں اور اس وقت وہ ایسا بدی کی طرف مائل ہوتا ہے کہ گویا اس کو کوئی بدی کی طرف کھینچ رہا ہے اور پھر بعض اوقات نیکی کے خیالات اس کے دل میں پڑتے ہیں اور اس وقت وہ ایسا نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے کہ گویا کوئی اس کو نیکی کی طرف کھینچ رہا ہے۔اور بسا اوقات ایک شخص بدی کر کے پھر نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے اور نہایت شرمندہ ہوتا ہے کہ میں نے براکام کیوں کیا۔اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی کو گالیاں دیتا اور مارتا ہے اور پھر نادم ہو تا ہے اور دل میں کہتا ہے کہ یہ کام میں نے بہت ہی بیجا کیا اور اس سے کوئی نیک سلوک کرتا ہے یا معافی چاہتا ہے۔" برائی کا اسے احساس ہوتا ہے تو فرمایا " سو یہ دونوں قسم کی قوتیں ہر ایک انسان میں پائی جاتی ہیں۔" انسان کی فطرت ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے اور شریعت اسلام نے نیکی کی قوت کا نام لیہ ملک رکھا ہے اور بدی کی قوت کو المیہ شیطان سے موسوم کیا ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ " فلسفی لوگ تو صرف اس حد تک ہی قائل ہیں کہ یہ دونوں قوتیں ہر ایک انسان میں ضرور موجود ہیں " یعنی بدی کی قوت بھی اور نیکی کی قوت بھی لیکن شریعت اسلام نے جو نیکی کی قوت ہے اس کو لیہ ملک کا نام دیا ہے اور بدی کی قوت کو لیہ شیطان کا آپ فرماتے ہیں کہ " فلسفی لوگ تو صرف اس حد تک ہی قائل ہیں کہ یہ دونوں قو تیں ہر ایک انسان میں ضرور موجود ہیں مگر خداجو ورا الوراء اسرار ظاہر کرتا ہے۔" بہت دور کے ، بہت چھپے ہوئے بھید بھی بتاتا ہے " اور عمیق اور پوشیدہ باتوں کی خبر دیتا ہے اس نے ان دونوں قوتوں کو مخلوق قرار دیا ہے۔جو نیکی کا القاء کرتا ہے اس کا نام فرشتہ اور روح القدس رکھا ہے اور جو بدی کا القاء کرتا ہے اس کا نام شیطان اور ابلیس قرار دیا ہے۔" فرماتے ہیں کہ "مگر قدیم عقلمندوں اور فلاسفروں نے مان لیا ہے کہ القاء کا مسئلہ بیہودہ اور لغو نہیں ہے۔" یعنی یہ مسئلہ جو ہے بیہودہ نہیں اور یہ اس کو مانتے ہیں کہ یہ ایک صحیح چیز ہے کہ انسان کے دل میں برائی کی قوت بھی پیدا ہوتی ہے یا تحریک پیدا ہوتی ہے اور نیکی کی تحریک بھی پیدا ہوتی ہے۔اس کی پھر آپ نے اس طرح وضاحت فرمائی ہے کہ : " یہ دونوں قو تیں جو ہر ایک انسان میں موجود ہیں خواہ تم ان کو یا دو قوتیں کہو اور یا روح القدس اور شیطان نام رکھو مگر بہر حال تم ان دونوں حالتوں کے وجود سے انکار نہیں کر سکتے اور ان کے پیدا کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا انسان اپنے نیک اعمال سے اجر پانے کا مستحق ٹھہر سکے۔کیونکہ اگر انسان کی فطرت ایسی واقع ہوتی کہ وہ بہر حال نیک کام کرنے کے لئے مجبور ہوتا اور بد کام کرنے سے طبعاً متنفر ہو تا تو پھر اس حالت میں نیک کام کا ایک ذرہ بھی اس کو ثواب نہ ہو تا کیونکہ وہ اس کی فطرت کا خاصہ ہوتا۔لیکن اس حالت میں کہ اس کی فطرت دو کشتوں کے