خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 145
خطبات مسرور جلد 14 145 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2016 سننے والا ہے۔پس اس کے دروازے کو کھنکھاؤ اور اس کو پکارو اور مستقل مزاجی سے اس کو پکارو۔اس کے حضور مستقل دعائیں کرتے ہوئے جھکے رہو تو وہ خداجو علیم بھی ہے اپنے بندوں کے حالات کو جانتا ہے ، جب وہ دیکھے گا کہ میرا بندہ حقیقت میں خالص ہو کر مجھے پکار رہا ہے تو پھر خدا ایسے مومن کے دل میں ایسی ایمانی قوت پیدا کر دے گا جس سے وہ شیطان کے حملے سے محفوظ ہو جائے گا۔نیکیوں کے معیار بلند سے بلند تر کرنے کی توفیق مل جائے گی اور برائیوں سے بچنے کی اس میں طاقت پید ا ہو جائے گی۔پس جب شیطان نے کہا تھا کہ تیرے خالص بندوں کے علاوہ سب میرے پیچھے چلیں گے تو ایک عقل رکھنے والے انسان کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ایک حقیقی مومن کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ خالص بندے کس طرح بنیں۔خالص بندے بننے کے لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک نسخہ بتایا کہ فحشاء اور منکر سے یعنی ہر ایسی بات سے اپنے آپ کو بچاؤ جو بیہودہ اور لغو ہے۔جو خد اتعالیٰ کو نا پسند ہے۔اور جو فحشاء اور منکر سے بچے گا اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کا تزکیہ کرے گی۔اور جس کا اللہ تعالیٰ تزکیہ کر دے وہ پاک ہو جاتا ہے اور ایسے پاکوں کے پاس پھر شیطان نہیں آتا۔یہ بات بھی ہمیں یادر کھنی چاہئے کہ شیطان کا حملہ ایک دم نہیں ہو تا۔وہ آہستہ آہستہ حملہ کرتا ہے۔کوئی چھوٹی سی برائی انسان کے دل میں ڈال کر یہ خیال پیدا کر دیتا ہے کہ اس چھوٹی سی برائی سے کیا فرق پڑتا ہے۔یہ کون سا بڑا گناہ ہے۔پھر یہ چھوٹی چھوٹی برائیاں بڑے گناہوں کی تحریک کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ضروری نہیں کہ ڈاکہ اور قتل ہی بڑے گناہ ہیں۔کوئی بھی برائی جب معاشرے کا امن و سکون برباد کرے تو وہ بڑی برائی بن جاتی ہے۔انسان کو یہ احساس مٹ جاتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر پاک ہونا ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے تو جہاں مستقل مزاجی سے برائیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے شیطان کے قدموں پر چلنے سے بچنا ہے وہاں مستقل مزاجی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آکر پاک ہونے کی کوشش کرنا بھی ضروری ہے اور مستقل اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے اور اس سے مدد مانگنا بھی ضروری ہے۔اس کے بغیر انسان شیطان کے حملوں سے بیچ نہیں سکتا۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اقتباسات پیش کروں گا۔بعض لوگوں کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو بنایا کیوں؟ پہلے ہی دن اس کی بیا کی پر سزادے کر اسے ختم کیوں نہ کر دیا؟ اگر پہلے ہی دن شیطان کو ختم کر دیا جاتا تو دنیا کے فساد ہی نہ ہوتے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔اس سوال کے جواب میں کہ خدا نے شیطان کو کیوں بنایا، اس کو سزا کیوں نہ دی؟ آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ اس کا جواب یہ ہے کہ : " یہ بات ہر ایک کو ماننی پڑتی ہے کہ ہر ایک انسان کے لئے دو جاذب موجود ہیں۔یعنی کھینچنے والے" دو