خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 144 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 144

خطبات مسرور جلد 14 144 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2016 خالص بندے ہیں تو وہ میرے حملے سے بچیں گے۔ان پر تو میرا کوئی مکر ، کوئی حملہ کار گر نہیں ہو گا۔اس کے علاوہ اکثریت میرے قدموں پر چلے گی۔اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی اور ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ جو تیرے پیچھے چلنے والے ہوں گے انہیں میں جہنم میں ڈالوں گا۔لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے بھیجنے کے نظام کو جاری کر کے انسانوں کو نیکیوں کے راستے بھی بتائے۔ان کو اصلاح کے طریقے بھی بتائے۔ان کو اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے کے ذریعہ بھی بتائے۔یہ بھی واضح کیا کہ شیطان تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔وہ ہمدردی کے لبادہ میں تمہیں بہتری اور فائدے نہیں بلکہ برائی اور نقصان کی طرف بلا رہا ہے۔اور جب وقت آئے گا کہ انسان کا حساب کتاب ہو تو بڑے آرام سے ، بڑی ڈھٹائی سے کہہ دے گا کہ میں نے تمہیں برائی کی طرف، لالچ کی طرف، گناہوں کے کرنے کی طرف، اللہ تعالیٰ کے حکموں کے خلاف چلنے کی طرف بلایا تھا۔لیکن تم تو عقل رکھنے والے انسان تھے۔تم نے کیوں اپنی عقل استعمال نہیں کی۔کیوں میری بدیوں کی آواز کو خدا تعالیٰ کی بھلائی اور نیکی کی آواز پر ترجیح دی۔پس اب اپنے کئے کی سزا بھگتو۔میرا اب تمہارے سے کوئی تعلق نہیں۔میرا مقصد تمہارے سے دشمنی کرنا تھا وہ میں نے کر لی۔اب جہنم کی آگ میں جلو۔پس اس طرح شیطان انسان سے دشمنی کرتا ہے۔قرآن کریم میں بھی متعدد جگہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان کے حملوں اور اس کے حیلوں اور مکروں سے ہوشیار کیا ہے۔اس آیت میں بھی جو میں نے تلاوت کی ہے اللہ تعالیٰ نے یہی بتایا ہے کہ شیطان ہمیشہ انسان کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔اس نے جب خدا کو کہا کہ میں اس کے دائیں بائیں آگے پیچھے سے حملہ کروں گا تو پھر اس نے بڑی مستقل مزاجی سے یہ حملے کرنے تھے اور کرتا ہے حتی کہ شیطان یہ بھی کہتا ہے کہ میں صراط مستقیم پر بیٹھ کر انسان پر حملے کروں گا۔اب ایک شخص سمجھتا ہے کہ میں صراط مستقیم پر چل رہا ہوں تو میں شیطان کے حملے سے بچ گیا۔لیکن یہ خیال ایسے شخص کی غلط فہمی ہے۔جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا، جو ضالین بنے ، وہ بھی تو پہلے صراط مستقیم پر چلنے والے تھے۔وہ بھی تو حضرت موسیٰ کو ماننے والے تھے۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام کو ماننے والے تھے لیکن گمراہی اور شرک میں مبتلا ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرنے والے بن گئے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان جب ایمان لے آتا ہے تب بھی شیطان اس کا پیچھا نہیں چھوڑ تا اور اسے گمراہ کرتا ہے اور کئی لوگ اس کے دھوکے میں آکے ، شیطان کی باتوں میں آکر گمراہ ہو جاتے ہیں حتی کہ مسلمان کہلانے والے بھی مرتد اور فاسق ہو جاتے ہیں۔پس یہ بہت بڑا خطرہ ہے جو شیطان کا خطرہ ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہی ہے جو انسان کو اس بڑے خطرے سے بچا سکتا ہے اور بچاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے آخر میں مومنوں کو اس لفظ کے ساتھ تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ سمیع ہے۔اللہ تعالیٰ