خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 143
خطبات مسرور جلد 14 143 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 11 / مارچ 2016ء بمطابق 11 - امان 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشَّيْطَانِ۔وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَازَ كَى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُزَلْ مَنْ يَشَاءُ (النور: 22) وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔اس آیت کا ترجمہ ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو شیطان کے قدموں پر مت چلو۔اور جو کوئی شیطان کے قدموں پر چلتا ہے تو وہ تو یقیناً بے حیائی اور نا پسندیدہ باتوں کا حکم دیتا ہے اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہو تو تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی پاک نہ ہو سکتا لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے اور اللہ بہت سننے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔شیطان انسان کا ازل سے دشمن ہے اور ہمیشہ رہے گا۔یہ اس لئے نہیں کہ اس میں ہمیشہ رہنے کی کوئی طاقت ہے۔بلکہ اس لئے کہ انسان کے پیدا ہونے پر اللہ تعالیٰ نے اسے یہ اختیار دیا تھا کہ وہ آزاد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ اس کے بندے شیطان کے حملے سے محفوظ رہیں گے۔شیطان کی یہ دشمنی کوئی کھلی دشمنی نہیں ہے کہ سامنے آکر لڑ رہا ہے۔بلکہ وہ مختلف حیلوں بہانوں سے ، مکر و فریب سے ، دنیاوی لالچوں کے ذریعہ سے انسان کی اناؤں کو ابھارتے ہوئے انسانوں کو نیکیوں سے دور لے جاتا ہے اور برائیوں کے قریب کرتا ہے۔شیطان نے خدا تعالیٰ کو کہا تھا کہ جس فطرت کے ساتھ تو نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جس طرح اس کی یہ فطرت ہے کہ دونوں طرف مڑ سکتا ہے تو اس کو میں اپنے پیچھے چلاؤں گا کیونکہ برائیوں کی طرف اس کا زیادہ رخ ہو گا۔اگر تو مجھے اجازت دے تو میں ہر راستے سے اس پر حملہ کروں گا۔ہر راستے سے اس کو بہکاؤں گا۔اور سوائے وہ جو تیرے حقیقی بندے ہیں،