خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 142

خطبات مسرور جلد 14 142 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 سے غیر احمدی لوگ بھی جمعہ کے لئے جاتے ہیں۔آپ کی اہلیہ نے بتایا کہ گزشتہ ماہ سے شہید مرحوم کے رویے میں نمایاں تبدیلی آئی تھی اور میر اپہلے سے بڑھ کے خیال رکھتے۔کسی سخت بات کا بھی برا نہیں مناتے تھے۔شہید مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے اور اس وقت سیکرٹری اصلاح و ارشاد کے عہدے پر خدمت کی توفیق پارہے تھے۔اس کے علاوہ بھی مختلف خدمات سر انجام دیتے رہے۔اس سے پہلے مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔تمام جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔شہید مرحوم کو جماعتی مخالفت کا سامنا تھا اور اس کے بارے میں پولیس اور انتظامیہ کو تحریری درخواستیں بھی دی جاچکی تھیں۔14 اگست 2012ء کو تقریباً پانچ سو افراد پر مشتمل جلوس پولیس کی نگرانی میں قمر الضیاء صاحب کے گھر کے باہر اکٹھا ہوا۔مخالفین کے دباؤ پر ایک پولیس والے نے دوکان کے کاؤنٹر پر چڑھ کر تصاویر اتارنی شروع کر دیں۔دوکان کے شٹر پر لکھے ہوئے۔وَاللهُ خَيْرُ الرَّازِقِيْن اور کلمہ طیبہ کو سیاہ رنگ پھیر کر مٹا دیا۔بعد ازاں اس گھر کی دیوار پر آویزاں آلْيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اور مَاشَاءَ اللہ کی تحریرات کو بھی چھینی ہتھوڑے سے توڑ دیا۔آخر میں گھر کے باہر لگی نام والی سختی جس پر قمر الضیاء صاحب کے والد صاحب کا نام محمد علی لکھا ہوا تھا اس سے محمد بھی چھینی ہتھوڑے سے توڑ دیا گیا۔یہ تو ان لوگوں کی حالت ہے سوائے اس کے کہ اس پر انا للہ پڑھا جائے اور کیا کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح 26 جنوری 2014ء کو چالیس سے پچاس مولویوں کے ایک جلوس نے قمر الضیاء صاحب کو ان کی دوکان سے زبر دستی باہر نکال کر تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر کی بے حرمتی کی اور نازیبا الفاظ استعمال کرتے رہے۔اس دوران پولیس موقع پر پہنچ کر قمر الضیاء صاحب کو تھانے لے گئی لیکن بعد ازاں مخالفین کے خلاف بغیر کسی کارروائی کے معاملہ رفع دفع کروا دیا۔تو یہ مخالفانہ حالات تھے۔دھمکیاں ان کو مستقل ملتی تھیں۔اس وجہ سے ان کا خیال تھا کہ شاید بیرون ملک چلے جائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے شہادت کا رتبہ عطا فرمایا اور اپنے پاس بلا لیا۔شہید مرحوم نے پسماندگان میں دو بھائی اور دو ہمشیر گان کے علاوہ والد مکرم محمد علی صاحب، اہلیہ روبی قمر صاحبہ تین بچے حذیفہ احمد عمر دس سال، بیٹی امتہ المتین عمر سات سال اور ایک دوسری بیٹی امتہ الہادی عمر چار سال چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے اس شہید بھائی کے درجات بلند فرمائے۔اپنی رضا کی جنتوں میں ہمیشہ ان کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور نعماء جنت سے نواز تار ہے۔اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 25 / مارچ 2016ء تا 31 / مارچ 2016ء جلد 23 شمارہ 13 صفحہ 05تا09)