خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 141
خطبات مسرور جلد 14 141 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 اللہ تعالیٰ ہمیں مستقل مزاجی سے اور اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق بناتے ہوئے اور تمام ظاہری پہلو اپناتے ہوئے دعاؤں کی توفیق عطا فرمائے۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ بھی پڑھاؤں گا جو شہید کا جنازہ ہے۔مکرم قمر الضیاء صاحب ابن مکرم محمد علی صاحب ساکن کوٹ عبد المالک ضلع شیخو پورہ کو مخالفین نے یکم مارچ 2016ء کو دو پہر تقریباً ڈیڑھ بجے ان کے گھر کے باہر چھریوں کے وار کر کے شہید کر دیا۔اناللہ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔وقوعہ کے روز شہید مرحوم قمر الضیاء صاحب گھر سے ملحقہ اپنی دوکان کو بند کر کے اپنے بچوں کو سکول سے لینے کے لئے گھر سے نکلے ہی تھے کہ دو نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر حملہ کر دیا اور ان کو گھیٹتے ہوئے گلی میں لے گئے۔ایک شخص نے قمر الضیاء صاحب کو دبوچ لیا اور دوسرے نے ان پر چھریوں کے ساتھ وار شروع کر دیئے۔مکرم قمر الضیاء صاحب نے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی لیکن ان کی چھاتی، کندھے ، دل اور گردن پر چھریوں کے زخم آئے۔ایک حملہ آور نے گردن کے پیچھے چھری سے وار کیا اور چھری جسم میں پیوست چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گئے۔زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی آپ شہید ہو گئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے پڑدادا مکرم دولت خان صاحب کے ذریعہ ہوا تھا جنہوں نے اولکھ بیری ضلع گورداسپور سے قادیان جاکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔وفات کے بعد بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔شہید مرحوم کے داد الکرم فتح محمد صاحب بھی بفضلہ تعالی پیدا ئشی احمدی تھے۔وہ بھی بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔قیام پاکستان کے بعد یہ خاندان ہجرت کر کے کا لیکے ناگرے ضلع سیالکوٹ میں آکر آباد ہوا۔شہید مرحوم کی پیدائش وہیں کی ہے۔پھر یہ 1985ء میں کوٹ عبد المالک آگئے۔شہید مرحوم نے بی کام تک تعلیم حاصل کی۔کچھ عرصہ مختلف ادارہ جات میں ملازمت کی۔بعد میں اپنے گھر سے ملحقہ ایک دکان کھول لی۔کاروبار کا آغاز کیا۔فوٹو سٹیٹ اور موبائل کی دوکان بنائی۔2004ء میں ان کی شادی ہوئی۔بے شمار خوبیوں کے حامل تھے۔نیک، ایماندار ، نیک دل، نیک سیرت، شریف النفس، ملنسار شخصیت کے مالک، نہایت مخلص، فدائی اور دلیر نوجوان تھے۔مرکزی مہمانان کی خدمت میں پیش پیش رہتے۔جماعتی خدمات میں بھی ہمیشہ نمایاں رہے۔ہر ایک سے خوش خلقی سے پیش آتے تھے۔شہید کے بھائی مظہر علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ نمازوں کی ادائیگی کا بالعموم اور نماز جمعہ کی ادائیگی کا بالخصوص انتظام کیا کرتے تھے۔شہید مرحوم کو با قاعدگی کے ساتھ جمعہ پڑھتے دیکھ کر دیگر غیر از جماعت دوکاندار بھی اپنی دوکانیں بند کر کے جمعہ کی ادائیگی کے لئے جاتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اگر یہ مرزائی جمعہ کے وقت دوکان بند کر کے جاسکتا ہے تو ہمیں بھی جانا چاہئے۔آپ اس وجہ سے بھی کبھی جمعہ نہیں چھوڑتے تھے کہ میری وجہ