خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 140
خطبات مسرور جلد 14 140 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 قسم کے ہوتے ہیں۔ایک نر گرا اور ایک دوسرا خر گدا۔نر گراوہ ہوتا ہے جو کسی کے دروازے پر جاکر آواز دیتا ہے کہ کچھ دو۔اگر کسی نے کچھ ڈال دیا تو لے لیا۔نہیں تو دو تین آواز میں دے کر آگے چلے گئے۔مگر خر گد اوہ ہوتا ہے کہ جب تک نہ ملے ٹلتا نہیں۔اس قسم کے گداگر لئے بغیر پیچھا ہی نہیں چھوڑتے اور ایسے گداگر بہت ہی تھوڑے ہوتے ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بھی آکر ایک شخص بیٹھا کرتا تھا۔وہ نہیں اٹھتا تھا جب تک کچھ لے نہ لیتا۔وہ بیٹھا رہتا تھا جب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر نہ نکلتے اور اسے کچھ دے نہ دیتے۔پھر بعض اوقات وہ رقم مقرر کر دیتا کہ اتنی رقم لینی ہے اور اگر حضرت صاحب اس سے کم دیتے تو وہ ہر گز نہ لیتا۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ مہمان اسے اتنی رقم پوری کر دیتے تھے کہ چلا جائے۔فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اگر اس کے منہ سے کوئی رقم نکل گئی کہ یہ لینی ہے اور وہ پوری نہ ہوتی تو وہ جاتا نہ تھا جب تک رقم پوری نہ کر دی جاتی اور اگر حضرت صاحب بیمار ہوتے تو تب تک نہ جاتا جب تک صحت یاب ہو کر آپ باہر تشریف نہ لاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ دعا کی قبولیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان خر گدا بنے اور مانگتا چلا جائے اور خدا کے حضور دھونی رما کر بیٹھ جائے اور ملے نہیں جب تک کہ خدا کا فعل یہ ثابت نہ کر دے کہ اب اس کے متعلق دعانہ کی جائے۔خدا کا فعل کہ اب اس کے متعلق دعانہ کی جائے کئی طرح سے ہے۔ایک عورت مثلاً حمل میں ہے۔آجکل کی سائنس کے مطابق یہ پتا چل جاتا ہے کہ لڑکی پیداہو رہی ہے یا لڑکا پیدا ہونا ہے اور آخری وقت میں آ کے بالکل پتا چل جاتا ہے۔اس وقت یہ کہنا کہ اب لڑکا ہی ہو یہ خدا تعالیٰ کے فعل کے خلاف ہے۔وہ تو پیدائش کا آخری وقت ہے۔ہاں اگلے حمل کے لئے یہ دعا قبول ہو سکتی ہے کہ آئندہ حمل میں پھر اللہ تعالیٰ لڑکا دے دے یا کبھی خدا کا منشاء کھول دیا جائے اور پھر بھی انسان دعا کرتارہے تو پھر بھی یہ غلط ہے۔یہ بے ادبی بن جاتی ہے۔لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کبھی تدبیر کو بھی نہیں چھوڑنا۔تدبیر بھی دعا کے ساتھ ضروری ہے۔تدبیر اور دعا مستقل مزاجی سے کرتے رہنا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو کھینچتا ہے۔تدبیر کا دعا کے ساتھ ہونا بھی بہت ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے کہ تدبیر کا دعا کے ساتھ نہ ہونا بالکل غلط چیز ہے اور ایسے شخص کی دعا اس کے منہ پر ماری جاتی ہے جو صرف دعا کرتا ہو اور تدبیر نہ کرتا ہو۔جو تدبیر اور دعا کو ساتھ نہیں رکھتا اس کی دعا نہیں سنی جاتی کیونکہ دعا کے ساتھ تدبیر کا نہ کرنا خد اتعالیٰ کے قانون کو توڑنا اور اس کا امتحان لینا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ بندے اس کا امتحان لیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 10 صفحہ 200-201)