خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 139
خطبات مسرور جلد 14 139 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 معین صورت میں ہمارے سامنے آسکیں اور جب تک یہ نتائج سامنے نہ آئیں ہمیں آرام سے نہیں بیٹھنا چاہئے۔(ماخوذ از مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پروگرام۔انوار العلوم جلد 18 صفحہ 201-202) بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ہم نے بڑی عبادت کی، بڑی دعائیں کیں، ہمیں ہمارے مقصد نہیں حاصل ہو سکے۔ہماری دعائیں قبول نہیں ہوئیں۔تو ان کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ یا تو جس حد تک جانا چاہئے وہاں تک نہیں پہنچے یا پھر انہوں نے منزل تو مقرر کر لی لیکن راستہ غلط لے لیا۔پس اس پر ایک دعا کرنے والے کو غور کرنا چاہئے کہ راستہ بھی صحیح ہو اور جو جتنی محنت چاہئے وہ بھی ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ کیمیا گر جب ناکام رہتا ہے تو کہتا ہے کہ ایک آنچ کی کسر رہ گئی۔گویاوہ کیمیا بننے سے ناامید نہیں ہو تا بلکہ اپنی کوشش کا نقص قرار دیتا ہے حالانکہ کیمیا گری میں امید کی گنجائش ہی نہیں۔اور خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق بڑھنے اور اس کے قریب ہونے کی تو پوری امید ہے مگر کیمیا گر جس کی ساری عمر ہی ایک آنچ کی کسر میں گزر جاتی ہے وہ تو باوجود ہر دفعہ کی ناکامی کے نا امید نہیں ہو تا لیکن وہ شخص جو خد اتعالیٰ کے قریب ہونا چاہے کامیاب نہیں ہو تا تو اپنے طریق عمل کا نقص قرار نہیں دیتا بلکہ خدا تعالیٰ سے نا امید ہو کر فوراً نا امید ہو جاتا ہے اور اپنی تمام کوششیں چھوڑ بیٹھتا ہے۔پس کیمیا گر تو غلطی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور سونا بننے کے خیال کو یقینی سمجھتا ہے لیکن خدا کو پانے کی کوشش کرنے والا اپنی غلطی کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 11 صفحہ 60) آجکل کی ریسرچ کرنے والوں کا بھی یہی حال ہے۔سالوں ایک مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ریسرچ کرتے ہیں۔سالوں لگاتے ہیں اور پھر سالوں بعد جا کے کہیں کامیابی ملتی ہے اور وہ بھی ضروری نہیں ہے کہ جس طریق کو ایک دفعہ اپنایا ہو اسی کو اختیار کریں۔مختلف تجربات میں مختلف طریقے بدلتے رہتے ہیں۔پس روحانیت کے حصول اور خدا تعالیٰ کے قرب اور دعاؤں کی قبولیت کے لئے بھی اپنے طریق کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔اپنی اصلاح کی ضرورت ہے اور اس کے جائزے کی ضرورت ہے۔کس طرح اصلاح کر رہے ہیں۔اس کے لئے اپنے نفس کو ٹٹولنے کی ضرورت ہے۔اپنی عبادتوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے ہر قسم کے اعمال کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کس قسم کے ہمارے اعمال ہیں۔اپنی سوچوں اور عقل کی درستی کی ضرورت ہے۔جب خدا تعالیٰ نے کہا کہ میں اپنے بندوں کے قریب ہوں اور ان کی دعائیں سنتا اور پھر اگر وہ قریب نہیں آتا، دعائیں نہیں سنی جاتیں تو کہیں نہ کہیں، کسی جگہ ہماری کوششوں اور حالتوں ہوں اور میں کمی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ گداگر دو