خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 138
خطبات مسرور جلد 14 138 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 لئے جب بھی کوئی ترکیب نکالی جائے تو اصل میں وہ اس مقصد کے حصول کے لئے ہوتی ہے جس کے لئے انبیاء آئے اور جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور جس کے لئے اس زمانے میں آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے۔کسی بھی مقصد کے حصول کے لئے اور جماعت کی مجموعی ترقی کے لئے ذمہ دار افراد کو مسلسل اور پیچھے پڑ کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے چاہے وہ تربیت کا کام ہو یا کوئی اور کام ہو۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ایک فقیر تھا جو اکثر اس کمرے کے سامنے جہاں پہلے محاسب کا دفتر تھا بیٹھا کرتا تھا۔جب اسے کوئی آدمی احمد یہ چوک میں سے آتا ہوا نظر آتا تو کہتا کہ ایک روپیہ دے دو۔جب آنے والا کچھ قدم آگے آجاتا تو کہتا اٹھنی ہی سہی۔جب وہ کچھ اور آگے آتا تو کہتا چوٹی ہی سہی۔جب اس کے مقابلے پر آجاتا تو کہتاد و آنے ہی دے دو۔جب اس کے پاس سے گزر کر دو قدم آگے چلا جاتا تو کہتا ایک آنہ ہی سہی۔جب کچھ اور آگے چلا جاتا تو کہتا ایک پیسہ ہی دے دے۔جب کچھ اور آگے چلا جاتا تو کہتا د ھیلہ ہی سہی۔جب جانے والا اس موڑ کے قریب پہنچتا جہاں مسجد اقصیٰ کی طرف مڑتے ہیں تو کہتا کہ پکوڑا ہی دے دو۔جب دیکھتا کہ آخری نگر پر پہنچ گیا ہے تو کہتا مرچ ہی دے دو۔وہ روپے سے شروع کرتا اور مرچ پر ختم کرتا۔اسی طرح کام کرنے والوں کو بھی یہی سمجھنا چاہئے کہ کچھ نہ کچھ تو ہمارے ہاتھ آجائے۔اگر پہلی دفعہ سو میں سے ایک کی طرف توجہ کرے گا تو اگلی دفعہ دو ہو جائیں گے اس سے اگلی دفعہ چار ہو جائیں گے اور اس طرح آہستہ آہستہ بڑھتے جائیں گے۔پس کام کرو اور پھر نتیجہ دیکھو۔جب دنیوی کام بے نتیجہ نہیں ہوتے تو کس طرح سمجھ لیا جائے کہ اخلاقی اور روحانی کام بغیر نتیجہ کے ہو سکتے ہیں۔لیکن جن کے من ٹھیک نہ ہوں وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو کام کرتے ہیں لیکن نتیجہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔نتیجہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے کہنے سے ان کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہم نے تو اپنی طرف سے پوری محنت کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم سے دشمنی نکال لی۔یہ کہنا کس قدر حماقت اور بیوقوفی ہے۔گویا اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جو کام ہم کرتے ہیں اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔لیکن اچھے یا برے نتیجہ کا دارو مدار ہمارے اپنے کام پر ہوتا ہے۔کسی شخص نے 1/10 حصے کے لئے محنت کی ہے تو قانون قدرت یہی ہے کہ اس کا 1/10 حصہ نتیجہ نکلے گا۔اب اس کے 1/10 حصے نکلنے کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت کی وجہ سے 1/10 حصہ نتیجہ نکلے گا ورنہ اس نے محنت تو زیادہ کی تھی۔قانون قدرت کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا لیکن شرارتی نفس یہ کہتا ہے کہ میں نے تو اپنا فرض ادا کر دیا تھا لیکن اللہ میاں نے اپنا فرض ادا نہیں کیا اور بھول گیا۔اس سے بڑا کفر اور کیا ہو سکتا ہے۔پس جہاں تک محنت اور کوشش کا سوال ہے نتائج ہمارے ہی اختیار میں ہیں اور اگر نتیجہ اچھا نہیں نکلتا تو سمجھ لو کہ ہمارے کام میں کوئی غلطی رہ گئی ہے۔کوشش کرنی چاہئے کہ ہر کام کے نتائج کسی