خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 137
خطبات مسرور جلد 14 137 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 یہ قدیم تحریک ہے۔اور اس جدید کے لفظ سے نہ صرف ان ماؤف اور بیمار دماغوں سے تلعب کیا گیا ہے جو بغیر جدید کے کسی بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جس طرح ڈاکٹر جب ایک مریض کا لمبے عرصے تک علاج کرتا رہتا ہے تو بیمار بعض دفعہ کہتا ہے کہ مجھے ان دواؤں سے کوئی فائدہ نہیں ہو تا۔تب وہ کہتا ہے اچھا میں آج تمہیں نئی دوا دے دیتا ہوں۔یہ کہہ کر وہ پہلی دوا میں کچھ اور ملا دیتا ہے۔مثلاً اس زمانے میں آپ نے مثال دی کہ ٹنکچر کارڈ مم(Tincture Cardamom) ملا کر خوشبو دار بنا دیتا ہے اور مریض سمجھتا ہے کہ یہ نئی دوا مجھے مل گئی اور ڈاکٹر بھی اسے نئی دوا کہنے میں حق بجانب ہوتا ہے کیونکہ دوا میں ایک نئی دوا ملائی ہوتی ہے مگر وہ اس لئے اسے جدید بناتا ہے تا مریض دوائی پیار ہے اور اس کی امید نہ ٹوٹے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک دفعہ ایک بڑھیا آئی۔اسے ملیریا بخار تھا جو لمبا ہو گیا، اتر نہیں رہا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے فرمایا کہ تم کو نین کھایا کرو۔وہ کہنے لگی کو نین ؟ میں تو اگر کونین کی گولی کا چوتھا حصہ بھی کھالوں تو ہفتہ ہفتہ بخار کی تیزی سے پھونکتی رہتی ہوں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ کو نین کھانے کے لئے تیار نہیں تو چونکہ عام طور پر ہمارے ملک میں کو نین کو گوئین کہتے ہیں جس کے معنی دو جہانوں کے ہوتے ہیں یعنی دو جہان۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے کھانے کو تو کونین دی، گولیاں دیں۔مگر فرمایا یہ ڈارین کی گولیاں ہیں انہیں استعمال کرو۔کوئین اور دارین دو جہان ہی ہیں۔واضح ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا تھا یہ کو نین نہیں ہے۔اس کا نیا نام رکھ دیا۔دو تین گولیاں ہی اس نے کھائی ہوں گی کہ آکے کہنے لگی کہ مجھے تو اس دوا سے ٹھنڈک پڑگئی ہے کچھ اور گولیاں دیں۔پہلے تو وہ کہتی تھی کہ آدھی گولی کھالوں، چوتھا حصہ کھالوں تو بخار نہیں اترتا، گرمی ہو جاتی ہے یا نام بدلنے سے ہی ٹھنڈک پڑ گئی۔آپ فرماتے ہیں کہ میں نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی طرح پرانی تحریک کا نام جدید رکھ دیا۔اور تم نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ جدید تحریک ہے۔وہ لوگ جن کے اندر اخلاص تھا وہ چاہتے تھے کہ روحانیت میں ترقی کریں انہوں نے جب ایک تحریک کا نیا نام سنا تو انہوں نے کہا یہ نئی چیز ہے۔آؤ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں اور وہ لوگ جن کے اندر نفاق تھا انہوں نے یہ سمجھ کر کہ یہ نئی چیز ہے، کہنا شروع کر دیا کہ اب یہ نئی نئی باتیں نکال رہے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق سے انحراف کر رہے ہیں۔نہ اس نے بات سمجھنے کی کوشش کی اور نہ اُس نے فائدہ اٹھایا۔(ماخوذ از تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔۔۔انوار العلوم جلد 14 صفحہ 230-231) پس یہ ایک قانون ہے جو ہمیشہ سے مقرر ہے آدم کے وقت سے آج تک کہ جب شیطان تم پر حملہ کرے تو تمہیں اس سے بچنے کے لئے ترکیبیں نکالنی پڑیں گی اور شیطان سے بچنے اور دین کے کام میں ترقی کے