خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 136 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 136

خطبات مسرور جلد 14 136 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 کرتے تھے کہ ایک دفعہ جالینوس ایک جگہ کھڑا تھا۔ایک دیوانہ دوڑتا ہوا آیا اور آکر اس سے چمٹ گیا۔جب جالینوس نے اس کو چھوڑا تو اس نے کہا میر ا فصد نکلواؤ۔یعنی خون نکلواؤ۔اس پر لوگوں نے پوچھا کہ فصد کیوں کھلواتے ہیں۔کہنے لگا کہ یہ دیوانہ جو آکر مجھ کو چمٹ گیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھ میں بھی کوئی رگ جنون کی ہے کہ یہ اوروں کو چھوڑ کر مجھ سے آچھٹا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرے اندر جنون کی کوئی رگ ہے جس سے اس دیوانے کو مناسبت ہوئی اور وہ میری طرف کھچا آیا۔تو مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے پیچھے جھکنا جو نمازی نہیں ہیں اور ان کے پیچھے چلنا جو نمازوں میں ست ہیں یہ بتاتا ہے کہ انہیں بھی ست لوگوں سے مناسبت ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 9 صفحہ 349-348) پس عمومی طور پر ہر جگہ ہی ہر احمدی کو سست لوگوں سے مناسبت رکھنے کی بجائے چست لوگوں سے، active لوگوں سے، جماعت کے فقال لوگوں سے مناسبت رکھنی چاہئے۔ان سے تعلق رکھنا چاہئے اور جب یہ مناسبت قائم ہو کر چست لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا تو سست بھی پھر چست ہو جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں ایک دفعہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ میں معجزہ دیکھنا چاہتا ہوں۔اگر مجھے فلاں معجزہ دکھا دیا جائے تو میں آپ پر ایمان لانے کے لئے تیار ہوں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ مداری نہیں۔وہ کوئی تماشا نہیں دکھاتا بلکہ اس کا ہر کام حکمت سے پُر ہوتا ہے۔آپ یہ بتائیں کہ جو پہلے معجزے دکھائے گئے تھے ان سے آپ نے کیا فائدہ اٹھایا ہے کہ آپ کے لئے اب کوئی نیا معجزہ دکھایا جائے۔مگر انسانی فطرت کی کمزوری اس کو بھی نا پسند کرتی ہے بلکہ شاید اسے بد تہذ یبی قرار دیتی ہے۔وہ جائز سمجھتی ہے کہ سستی اور غفلت میں مبتلا چلی جائے بلکہ سستی اور غفلت میں ہمیشہ پڑی رہے اور کوئی اس سے اتنا بھی سوال نہ کرے کہ اس نے اپنی ذمہ داری کو کس حد تک ادا کیا ہے ہاں جب وہ کوئی تماشا دیکھنا چاہے اس وقت اسے وہ تماشاضر ور دکھا دیا جائے۔(ماخوذ از تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔انوار العلوم جلد 14 صفحہ 228-227) یہ انسانی فطرت ہے۔یہ عادت ضدی انسانوں کی ہمیشہ سے ہے کہ نہ ماننا ہو تو شیطان کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔تمام انبیاء سے یہی سوال ہوتے رہے ہیں حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نہ ماننے والوں نے ایسے ہی مطالبے کئے تھے کہ سونے کے گھر کا نشان دکھائیں۔آسمان پر چڑھنے کا نشان دکھائیں اور پھر یہی نہیں بلکہ آسمان سے ہمارے سامنے کتاب بھی لے کر آئیں۔اور اس طرح کی بیہودہ باتیں اور اعتراض تھے۔پس اللہ تعالیٰ ان بیہودہ مطالبوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور نہ اس کے انبیاء دیتے ہیں۔بے شمار نشانات ہیں اگر ماننا ہو تو نیک فطرتوں کے لئے وہی کافی ہوتے ہیں۔بعض لوگوں نے تحریک جدید پر بعض اعتراض کئے کہ یہ کیا نئی سکیم شروع کر دی ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ پر فرمایا کہ در حقیقت میری تحریک کوئی جدید تحریک نہیں بلکہ